سعودی عرب نے پاکستانی ڈاکٹروں کی پوسٹ گریجویٹ ڈگری تسلیم کرلی

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2019

ای میل

سی پی ایس پی کو سعودی عرب میں پریکٹس کی اجازت ہے—تصویر: اے ایف پی/فائل
سی پی ایس پی کو سعودی عرب میں پریکٹس کی اجازت ہے—تصویر: اے ایف پی/فائل

اسلام آباد: سعودی عرب نے 11 برس بعد پاکستانی ڈاکٹروں کی پوسٹ گریجویٹ ڈگری تسلیم کرلی جس سے ان ہزاروں پاکستانی ڈاکٹروں کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہوگئی جنہوں نے ایم ایس (ڈاکٹر آف سرجری) اور ایم ڈی (ڈاکٹر آف میڈیسن) کی تعلیم مکمل کرلی۔

سعودی عرب کے اس فیصلے کے بعد اب پاکستانی ڈاکٹرز سعودی عرب اور خیلجی ریاستوں میں کام کرسکیں گے۔

اس بارے میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اعجاز قدیر نے ڈان کو بتایا کہ اس وقت تقریباً 2 سو طالب علم ہسپتال میں ایم ایس اور ایم ڈی کی تعلیم مکمل کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈبلیو ایچ او کی سربراہی: پاکستانی ڈاکٹر حتمی اُمیدواروں میں شامل

انہوں نے بتایا کہ ایم ایس اور ایم ڈی کی ڈگریوں کو پاکستان میں کلینکل ڈگری مانا جاتا ہے لیکن سعودی عرب میں اسے تحقیقی ڈگری گردانا جاتا ہے اس وجہ سے ان ڈگریوں کے حامل ڈاکٹرز کو وہاں پریکٹس کی اجازت نہیں تھی جبکہ پاکستان میں ایم ایس اور ایم ڈی ایس کی ڈگری والے ہسپتالوں میں کام کرتے اور کلینکل تجربہ حاصل کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے ڈاکٹرز کے لیے اچھا ہے کہ جب وہ پمز میں تربیت حاصل کرلیں گے تو اس کے بعد وہ باہر جا کر کام کرسکیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ بیچلرز آف میڈیسن (ایم بی بی ایس) کے طالب علم ایم ایس اور یم ڈی میں داخلہ لیتے ہیں جسے مکمل کرنے کے لیے مزید 4 سال درکار ہوتے ہیں۔

اس ضمن میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈان کو بتایا کہ یہ معاملہ ان کے علم میں اس وقت آیا جب وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ڈاکٹر کے لیے عالمی ایوارڈ

ان کے مطابق اس وقت تقریباً 400 طالب علم تھے جن میں سے 200 ایم ایس /ایم ڈی کررہے تھے جبکہ باقی کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز (سی پی ایس پی) میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔

اس وقت مجھے بتایا گیا کہ سی پی ایس پی کو سعودی عرب میں پریکٹس کی اجازت ہے اور درخواست کی گئی کہ یہ معاملہ سعودی عرب کے ساتھ اٹھایا جائے کیوں کہ جب سعودی عرب انہیں کام کرنے سے روکتا ہے تو وہ خیلجی ممالک میں بھی کام نہیں کرسکتے۔

انہوں نے بتایا کہ ’میری گزشتہ ماہ سعودی حکام سے اس سلسلے میں ملاقات ہوئی جس پر سعودی کمیشن برائے صحت نے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق مختلف پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں مثلاْ ایم ایس، ایم ڈی، ایم ڈی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سعودی عرب میں تسلیم کی جاتی ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: خدمات کا اعتراف: پاکستانی ڈاکٹر کے لیے امریکی اعزاز

ان کا کہنا تھا کہ اس نوٹیفکیشن کی بدولت خلیجی ریاستوں میں ڈاکٹرز کلینکل پریکٹس کرسکتے ہیں اور زرِ مبادلہ بھیج کر ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سعودی حکام کے اس فیصلے کی ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی فزیشن اینڈ سرجن پاکستان نے بھی تعریف کی۔


یہ خبر 19 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔