شمالی آئرلینڈ: مظاہروں کے دوران گولی لگنے سے خاتون صحافی ہلاک

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2019

ای میل

ے پولیس کی جانب سے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا جارہا ہے— فوٹو: بی بی سی
ے پولیس کی جانب سے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا جارہا ہے— فوٹو: بی بی سی

شمالی آئرلینڈ کے شہر لندن ڈیری میں مظاہروں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں خاتون صحافی ہلاک ہوگئیں، پولیس کی جانب سے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا جارہا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شمالی آئرلینڈ کے شہر لندن ڈیری میں پولیس سرچ آپریشن کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں ری پبلکنز کو 29 سالہ خاتون صحافی لیرا میکی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔

اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل مارک ہیملٹن نے کہا کہ نیو آئرش ری پبلکن آرمی اس سب کے پیچھے ہے اور تفتیش کاروں نے قتل کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے خاتون صحافی کی ہلاکت پر اپنے رد عمل میں کہا کہ قتل ’حیران کن اور بے رحمانہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ لیرا میکی وہ صحافی تھیں جو بہادری کے ساتھ فرائض انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئیں۔

شمالی آئرلینڈ کی پولیس نے کہا کہ ایک مسلح شخص نے جمعرات (18 اپریل)کی رات کو 11 بجے پولیس پر فائرنگ کی تھی۔

گزشتہ شب مظاہروں کے دوران لی گئی موبائل فوٹیج میں ایک نقاب پوش شخص کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

لیرا میکی، پولیس کی گاڑی کے قریب کھڑی تھیں اور گولی لگنے سے زخمی ہوگئیں۔

مارک ہملٹن نے کہا کہ ’ لیرا میکی کو پولیس کی گاڑی میں فوری طور پر الٹناگیولن ہسپتال لے جایا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے وہ جانبر نہ ہوسکیں‘۔

نیشنل یونین آف جرنلسٹس (این یو جے) کے مطابق لیرا میکی شمالی آئرلینڈ کے نامور صحافیوں میں سے ایک تھیں۔

یونین کی سیمس ڈولے نے کہا کہ ’وہ ایک بہادر صحافی اور پرعزم خاتون تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ان کا عزم ہی تھا کہ وہ شہر میں مظاہروں کی صورتحال کا جائزہ لے رہی تھیں‘۔

آئرلینڈ کے وزیراعظم لیو وارادکر نے کہا کہ ’ ہم ڈیری کے عوام اور پوری صحافی برادری کے ساتھ ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم ایسے لوگوں کو اجازت نہیں دے سکتے جو انتہا پسندی، خوف اور نفرت پھیلا کر ہمیں ماضی میں دھکیلنا چاہتے ہیں‘۔

اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل مارک ہیملٹن نے مظاہروں سے متعلق بتایا کہ پولیس کو اطلاعات ملی تھیں کہ ڈیری کے علاقے ملروئے پارک اور کلیاگاہ میں حملوں کی تیاری کی جارہی ہے، جس پر جمعرات 18 اپریل کی رات پولیس نے مختلف علاقوں میں ممنوعہ ہتھیاروں اور بارودی مواد برآمد کرنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران پرتشدد ہنگاموں کو آغاز ہوگیا اور پولیس پر 50 سے زائد پیٹرول بم پھینکے گئے جبکہ پولیس کی دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔