ٹرمپ اور روس نے انتخابات میں مداخلت کے حوالے سے رپورٹ مسترد کردی

19 اپريل 2019

ای میل

ٹرمپ نے رپورٹ کو ان کے مخالفین کی جانب سے تیار کرنے کا الزام عائد کردیا—فوٹو: اے ایف پی
ٹرمپ نے رپورٹ کو ان کے مخالفین کی جانب سے تیار کرنے کا الزام عائد کردیا—فوٹو: اے ایف پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس دونوں نے امریکا کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے حوالے سے جاری کی گئی خصوصی تفتیش کار رابرٹ میولر کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اس کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے رپورٹ کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ 'میرے حوالے سے میولر رپورٹ مخصوص لوگوں کی جانب سے تیار کی گئی ہے جس کو ٹرمپ مخالف ڈیموکریٹ کے 18 اراکین نے تحریر کی ہے جو من گھڑت ہے اور مکمل طور پر جھوٹی ہے'۔

خیال رہے کہ 400 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو خصوصی نمائندے رابرٹ میولر نے 22 ماہ کی طویل تفتیش کے بعد گزشتہ روز جاری کی تھی جس میں واضح کیا تھا کہ ٹرمپ نے سازش کی تھی لیکن انصاف میں روڑے اٹکانے کے حوالے سے کچھ نہیں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی صدارتی مہم میں روسی مداخلت کی آگاہی کے الزام میں ڈچ باشندے کو سزا

رپورٹ 400 صفحات پر مشتمل ہے—فوٹو: اے پی
رپورٹ 400 صفحات پر مشتمل ہے—فوٹو: اے پی

میولر کی رپورٹ 10 والیم پر مشتمل ہے جس میں صدر ٹرمپ کے ملوث ہونے اور تفتیش میں رکاوٹیں ڈالنے کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

اٹارنی جنرل بل بار اور ان کے نائب روڈ روزینزسٹین نے دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد کہا تھا کہ رکاوٹیں کھڑی کرنے والے حوالے سے صدر کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں۔

امریکا کے صدارتی انتخابات میں روس کے کردار سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تحقیقات پر اثرانداز ہونے کے علاوہ خصوصی تفتیش کار رابرٹ ملر کو ہٹانے کی بھی کوشش کی۔

مزید پڑھیں:ایف بی آئی نے ٹرمپ کے روس سے روابط کے شبہے پر تفتیش کی، امریکی اخبار

رابرٹ ملر نے اپنی رپورٹ میں کئی جگہوں پر دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے بار بار تحقیقات کے راستے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی تاہم صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں نے صدر کے احکامات کو نظر انداز کیا جس کے باعث وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق ایک موقع پر صدر ٹرمپ تحقیقات پر اتنے غصے میں تھے کہ انہوں نے کہا کہ یہ خوف ناک ہے اس سے میری صدارت جا سکتی ہے۔

میولر نے رپورٹ میں کہا ہے کہ وہ جسٹس ڈپارٹمنٹ کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں اور ٹرمپ پر جرم عائد نہیں کررہے ہیں اور جو ثبوت انہوں نے جمع کیے ہیں وہ ری پبلکن صدر کو بے قصور قرار نہیں دیتے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق روس حکام نے بھی میولر کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کے حوالے سے ثبوت پیش نہیں کیےگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کے صدارتی انتخابات میں روس کا کردار، کیا پہلی گرفتاری متوقع ہے؟

روس کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ خصوصی نمائندے رابرٹ میولر کی 400 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں امریکا کے 2016 کے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کے مصدقہ ثبوت نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ 2016 میں امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی اور انتخابی مہم میں روسی مداخلت پر بھی تفتیش شروع کی گئی تھی اور کئی عہدیداروں کو باقاعدہ ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا تھا اور متحدہ عرب امارات میں ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کے معاونین کے درمیان ملاقات کا بھی انکشاف ہوا تھا۔

رواں سال مارچ میں اٹارنی جنرل ولیم بار نے قرار دیا تھا کہ خصوصی وکیل رابرٹ میولر کو 2016 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم میں روس کے ساتھ مل کر ’سازش‘ کے ثبوت نہیں ملے لیکن وہ اس نتیجے پر نہیں پہنچے کہ امریکی صدر نے انصاف کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی۔