خاشقجی قتل، ترکی میں عرب امارات کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد گرفتار

20 اپريل 2019

ای میل

مبینہ جاسوس کو پولیس اور انٹیلی جنس سروس نے گرفتار کیا—فوٹو: اے پی
مبینہ جاسوس کو پولیس اور انٹیلی جنس سروس نے گرفتار کیا—فوٹو: اے پی

ترکی میں متحدہ عرب امارات کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے پر دو افراد کو گرفتار کرکے سعودی صحافی جمال خاشقجی قتل میں ملوث ہونے کے حوالے سے تفتیش شروع کردی گئی۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی سرکاری ایجنسی اناطولو کا کہنا تھا کہ حکام نے دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور ان سے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کے شبہے میں تفتیش کی جارہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں افراد کو استنبول میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کے لیے جاسوسی کے الزام میں تفتیش کے دوران گرفتار کیا گیا ہے تاہم ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

ترک اخبار ینی سیفاک کا کہنا تھا کہ پولیس اور ایم آئی ٹی انٹیلی جنس سروس نے مذکورہ دونوں افراد کو رواں ہفتے کے شروع میں گرفتار کیا تھا۔

مزید پڑھیں:’جمال خاشقجی کا قتل سعودی ولی عہد کے حکم پر ہوا‘

اخبار نے مزید کہا کہ گرفتار افراد کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے جو سعودی صحافی قتل کیس کے حوالے سے زیر نگرانی تھے۔

یاد رہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو اکتوبر 2018 میں استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا جس کے بارے میں سعودی حکام نے شروع میں لاتعلقی کا اعلان کیا تھا تاہم بعد میں سعودی شہریوں کے ملوث ہونے کی تصدیق کی تھی۔

سعودی عرب میں اس حوالے سے رواں سال کے اوائل میں 11 افراد کے خلاف ٹرائل شروع کیا گیا تھا تاہم الزامات کے باوجود تاحال سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اس واقعے میں براہ راست ملوث ہونے کے ثبوت سامنے نہیں لائے جاسکے ہیں۔

جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے اور نیویارک ٹائمز کے لیے کالم لکھتے تھے تاہم شادی کے سلسلے میں اہم دستاویزات کے حصول کے لیے ترکی آئے تھے جہاں انہیں قتل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 5 ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

امریکی سی آئی اے نے اپنی تحقیقات میں کہا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے براہ راست احکامات جاری کیے تھے لیکن وائٹ ہاؤس نے سعودی عرب کی جانب سے اس رپورٹ کو مسترد کرنے پر چھپ سادھ لی تھی۔

جمال خاشقجی کے قتل سے پوری دنیا میں سعودی عرب کے حکمرانوں خاص کر طاقت ور ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

ترکی نے جمال خاشقجی کے قتل کا مقدمہ ترکی میں چلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی عرب سے کہا تھا کہ واقعہ ان کی سرزمین میں پیش آیا ہے اس لیے ٹرائل بھی یہی پر ہوگا لیکن ریاض کی جانب سے اس مطالبے کو رد کردیا گیا تھا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان مسلسل یہ کہتے رہے کہ وہ جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات جاری رکھیں گے اور سعودی عرب کو تعاون نہ کرنے پر تنقید کانشانہ بھی بنایا۔