سپریم کورٹ نے 5 برسوں میں 78 فیصد مقدمات میں سزائے موت ختم کی، رپورٹ

اپ ڈیٹ 20 اپريل 2019

ای میل

رپورٹ کے مطابق سزائے موت کے فیصلے بریت، سزا کم یا نظرثانی میں تبدیل کیے گئے —فوٹو: شٹراسٹاک
رپورٹ کے مطابق سزائے موت کے فیصلے بریت، سزا کم یا نظرثانی میں تبدیل کیے گئے —فوٹو: شٹراسٹاک

اسلام آباد: برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم نے وزارت قانون و انصاف کو جمع کروائی گئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ 5 برسوں میں سپریم کورٹ نے 78 فیصد مقدمات میں سزائے موت کو ختم کیا۔

وفاقی دارالحکومت میں ڈاؤٹی اسٹریٹ چیمبر میں کرمنل لا بیرسٹر ٹموتھی مولونے اور این جی او کی ریپریو ڈائریکٹر مایا فوا نے وزیر قانون بیرسٹر فرغ نسیم سے ملاقات کی اور رپورٹ پیش کی، اس دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: قتل کا ملزم 10 سال بعد بری، چیف جسٹس کا قانونی سقم پر اظہار برہمی

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2010 سے 2018 کے درمیان 310 رپورٹ کیے گئے سزائے موت کے کیسز میں سے 78 فیصد کے فیصلوں کو ختم کرتے ہوئے ان میں بریت، سزا کو کم کرنے یا نظرثانی کا حکم دیا۔

اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سپریم کورٹ نے مسلسل غیر معتبر گواہوں کی گواہی، جبری یا واپس لیے گئے بیانات، ناکافی یا مسخ کیے گئے شواہد اور الزامات کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے اسے سزائے موت ختم کرنے کے لیے بنیادی وجہ قرار دیا۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اپنے مرکزی دائرہ کار کا استعمال کرتے ہوئے پولیس تفتیش پر سنگین شک و شبہات کو اظہار کیا، خاص طور پر وہاں جہاں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے اندراج میں بے جا تاخیر ہوئی اور جہاں ایسا لگا کہ ثبوت گھڑے گئے، مسخ کیے گئے یا کوئی اور شک و شبہات پیدا کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: سزائے موت کے ملزم کی سزا 19 سال بعد عمر قید میں تبدیل

رپورٹ میں بتایا گیا عدالت عظمیٰ کی جانب سے صرف سنگین جرائم کے لیے سزائے موت کو برقرار رکھا اور ہر غیر سنگین جرم کا فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت کے خاتمے یا سزا میں کمی پر ختم ہوا، تاہم اس کے باوجود ماتحت عدالتوں کی جانب سے غیر سنگین جرائم کے لیے سزائے موت دینے کا سلسلہ جاری رہا۔

اس کے ساتھ ساتھ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اب ان عوامل کو تسلیم کیا جانے لگا ہے جو سزائے موت کے خلاف وکیل پیش کرتے ہیں، ان میں جرم کی قسم اور شدت، ملزمان کی جانب سے عدم شرکت، منصوبہ بندی کے بغیر، غصہ، سماجی اور خاندانی معاملات، متاثرہ خاندان کے ساتھ جزوی سمجھوتہ، ملزم کی عمر، آیا ملزم نے کسی بڑے کے اثر پر عمل کیا، ملزم کی ذہنی حالت، اصلاحات کی صلاحیت اور سزائے موت کے انتظار میں گزار گیا وقت شامل ہے۔

فاضل عدالت کی جانب اس بات کو بھی تسلیم کیا گیا کہ خاص کیس میں سزا کی کمی کی ایک مثال بھی موجود ہو تو وہ جج کو متعلقہ کیس میں سزائے موت دینے سے روکنے کے لیے کافی ہے تاہم عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔


یہ خبر 20 اپریل 2019 ڈان اخبار میں شائع ہوئی