اورماڑہ واقعے میں ملوث دہشتگردوں کے ٹھکانے ایران میں ہیں، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 20 اپريل 2019

ای میل

اس واقعے میں 14 پاکستانیوں کو شہید کیا گیا—اسکرین شاٹ
اس واقعے میں 14 پاکستانیوں کو شہید کیا گیا—اسکرین شاٹ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اورماڑہ واقعے پر کہا ہے کہ اس میں ملوث بلوچ دہشت گرد تنظیموں کے الائنس بی آر اے کے تربیتی کیمپ ایران میں ہیں اور اس سلسلے میں پڑوسی ملک کو قابل عمل معلومات فراہم کردی ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ علی الصبح بزی ٹاپ کے پاس پیش آیا، جہاں بسوں کو روکا اور لوگوں کی نشاندہی کے بعد 14 پاکستانیوں کو شہید کیا گیا، جس میں 10 پاکستان نیوی، 3 پاک فضائیہ اور ایک پاکستان کوسٹ گارڈ کا جوان تھا، اس واقعے پر ہمیں دکھ و تکلیف ہے کیونکہ جس بے دردی سے ہمارے سپاہیوں کو شہید کیا گیا، اس پر پوری قوم کو غم و غصہ ہے اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ واقعہ کیوں ہوا اور کس نے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ایک الائنس بی آر اے سامنے آچکا ہے، جس میں مختلف بلوچ دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں اور انہوں نے اس واقعے کی ذمہ داری بھی قبول کرلی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان بغیر اطلاع کے الزامات لگانے کی بھارتی روایت نہیں دہرانا چاہتا تھا، اسی لیے مصدقہ اطلاعت کے بعد ہی پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرنے کا سوچا تھا اور اب ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ یہ واقعہ بلوچ دہشت گرد تنظیموں کی کارروائی ہے اور اس نئے الائنس بی آر اے کے تربیتی اور لاجسٹکل کیمپ ایران کی سرحد کے اندر ہیں اور تحقیق و تصدیق کے بعد قابل عمل معلومات ایرانی حکام کے حوالے کردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کیمپوں کے مقامات کی نشاندہی کردی ہے اور بتا دیا ہے کہ ان عناصر کے کیمپ کہاں کہاں موجود ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ ایران، پاکستان کے ساتھ ہمسائے اور برادرانہ تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے گا۔

گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ساتھ ہم افغان بھائیوں سے بھی کارروائی کی امید کر رہے ہیں کیونکہ بی آر اے کے تانے بانے افغانستان میں بھی جاتے ہیں اور ان کی قیادت کی موجودگی کی نشاندہی ہوتی رہی ہے، تاہم افغانستان ہمارا پڑوسی ہے اور ہم وہاں امن و استحکام کے خواہش مند ہیں، اس کے لیے ہم کام کر رہے ہیں اور ہمیں توقع ہے جس جذبے سے ہم ان کی مدد کر رہے ہیں وہ بھی ہماری مدد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس واقعے کے مخصوص فارنزک ثبوت موجود ہیں جو ان مجرموں تک پہنچنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے، یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اس راستے کو پاکستان پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا۔

واقعے کے بعد کی صورتحال پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میری ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بات چیت ہوئی اور انہیں پاکستان قوم کے غم و غصہ سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہم اپنے پڑوسی سے کیا توقعات رکھتے ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اس واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ ہم مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے پاکستان کی مکمل مدد کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کل بروز اتوار ایران جارہے ہیں اور انہیں اس حوالے سے مزید گفتگو کرنے کا موقع مل جائے گا۔

سرحد کی حساس نوعیت کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے سرحد پر امن و امان اور استحکام کے لیے 6 اقدامات اٹھائے ہیں، جس میں پاکستان نے شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئی 7 کمانڈ تشکیل دی ہے تاکہ نگرانی اور فوری کارروائی میں آسانی ہو، اس کمانڈ کا مرکز تربت میں قائم کیا گیا ہے تاکہ اس سرحد پر موثر نگرانی ہوسکے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ایک نئی فرنٹیئر کور بنائی ہے تاکہ سرحد کے لیے درکار نفری دستیاب ہو، اس کے علاوہ پاکستان اور ایران نے باہمی مشاورت سے سرحد کو پرامن رکھنے اور ایسے عناصر کے ناپاک عزائم کے خاتمے لیے مشترکہ بارڈر سینٹر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ اسی طرح پاک-ایران سرحد پر بھی باڑ لگانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ ایک مہنگی مشق ہے لیکن اس کے باوجود یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور اس عمل کا آغاز ہوگیا ہے، باڑ لگانے کا آغاز غلط استعمال ہونے والے مقامات سے کردیا گیا ہے اور بتدریج 950 کلومیٹر کی سرحد کو مکمل کرنے کا ارادہ ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ باڈر پیٹرولنگ اور مشقوں کو مربوط کرنے اور ہیلی سرولنس کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایسے واقعات سے محفوظ رہا جاسکے۔

ایرانی وزیر خارجہ سے ہونے والی بات چیت پر انہوں نے مزید بتایا کہ ایران میں ہونے والے کسی بھی واقعے کے بعد ان کی توقعات پر پاکستان نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا اور ان کے لاپتہ گارڈ کی بازیابی میں بھی پاکستان نے سنجیدگی سے کام کیا اور 9 گارڈ کو بازیاب کروایا، لہٰذا ہمیں بھی ایران سے ایسی ہی توقع ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ایران-پاکستان مخالف عناصر کے خاتمے کے لیے معاون ثابت ہوگا۔

اس موقع پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی رہتی ہے اور ایسے عناصر موجود ہیں جو دونوں ممالک کے تعلقات بہتر نہیں دیکھنا چاہتے۔

پاکستان کے تینوں پڑوسی ممالک سے تعلقات کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمارا افغانستان سے مستقبل جڑا ہوا ہے، ایران سے بھی ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلقات بہتر ہوں تاہم کچھ پابندیاں آڑے آجاتی ہیں، اسی طرح بھارت کے ساتھ بھی تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن اس کے باوجود ہمسائے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں اور ہم اس کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاک-ایران سرحد پر باڑ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ دنیا بدل گئی ہے، پہلے ایسی دہشتگردی نہیں تھی، اس کے تدارک کے لیے اقدامات اٹھانے پڑے اور باڑ لگانا بھی اسی کا ایک قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ تنظیموں کی پشت پناہی کون کررہا ہے، ان کو ہتھیار کہاں سے ملتے ہیں، ان کی حمایت کون کرتے ہیں، ان کے تانے بانے کہاں سے ملتے ہیں یہ سب کو معلوم ہے، بلوچستان میں جان بوجھ کر بدامنی پھیلائی جاتی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاک-ایران تعلقات سے غافل نہیں ہوں، اس واقعے پر غم و غصہ ہے لیکن ہم بھائی اور دوست ہیں اور اسے کے حوالے سے توقعات رکھی ہیں۔