کیا پورے چاند کی رات لوگوں کے ذہن پر اثرات مرتب کرتی ہے؟

21 اپريل 2019

ای میل

پورے چاند کی رات کیا واقعی انسانوں پر اثرات مرتب کرتی ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
پورے چاند کی رات کیا واقعی انسانوں پر اثرات مرتب کرتی ہے — شٹر اسٹاک فوٹو

پورے چاند کی رات میں سمندر کی لہروں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ کہانیوں میں چاندنی اور وئیروولف کے درمیان تعلق بھی بیان کیا گیا ہے۔

مگر کیا واقعی پورے چاند کی رات انسانی جسم پر اثرات مرتب کرتی ہے جس کا بیشتر حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔

ایسا بیشتر افراد مانتے ہیں کہ چودہویں کا چاند انسانی جسم پر اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ ایک تحقیق کے دوران ڈاکٹروں اور نرسوں کی اکثریت بھی اسے درست سمجھتی تھی۔

1987 میں جریدے جرنل آف ایمرجنسی میڈیسین میں اس حوالے سے مقالہ شائع ہوا تھا اور کچھ سال پہلے کینیڈا کی ایک یونیورسٹی کے ماہرین نے یہ جاننے کا فیصلہ کیا کہ چاند کے چڑھنے اور ذہنی صحت کے درمیان کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

اس خیال کی آزمائش کے لیے محققین نے 771 مریضوں کا جائزہ مارچ 2005 سے اپریل 2008 کے دوران لیا۔

ان مریضوں نے سینے میں درد کی شکایت کی تھی جبکہ ڈاکٹر اس درد کی طبی وجہ کا تعین کرنے میں ناکام رہے۔

ان مریضوں میں سے بیشتر کو چڑچڑے پن اور ذہنی بے چینی جیسی کیفیات کا بھی سامنا تھا۔

جب محققین نے چاند کے مختلف مراحل اور مریضوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا تو انہوں نے نفسیاتی مسائل اور چاند کے اتار چڑھاﺅ کے درمیان کوئی تعلق دریافت نہیں کیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ پورے چاند کی رات یا نئے چاند کے نفسیاتی مسائل پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

تو اگر لوگ چودہوں کے چاند پر عجیب و غریب حرکتیں کریں تو یہ نہ سمجھیں اس کی وجہ چاند ہے، بلکہ اس کا امکان کافی زیادہ ہے پورے مہینے وہ ایسا ہی کریں گے۔