بحریہ ٹاؤن راولپنڈی و مری کے منصوبوں کیلئے 50 ارب روپے کی پیشکش پر اداروں کو نوٹس

اپ ڈیٹ 23 اپريل 2019

ای میل

عدالت نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے منصوبے کیلئے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کی تھی—فوٹو: بحریہ ٹاؤن
عدالت نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے منصوبے کیلئے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کی تھی—فوٹو: بحریہ ٹاؤن

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اور مری کے منصوبوں کے لیے زمین کی مد میں دی گئی 50 ارب روپے کی پیش کش پر پنجاب حکومت، محکمہ جنگلات اور قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کردیا۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں بینچ نے بحریہ ٹاؤن راولپنڈی اور مری سے متعلق عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت وکیل اظہر صدیق نے ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی اور بتایا کہ ان کے موکل کو سیکیورٹی خدشات ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں 460 ارب روپے کی بھاری رقم ادا کرنی ہے، یہ خبر عام پونے سے علی ریاض ملک کو شدید سیکیورٹی خدشات ہیں۔

مزید پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی کیلئے 450 ارب روپے کی پیشکش، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

وکیل نے بتایا کہ علی ریاض ملک کو بیان حلفی دبئی یا لندن سفارتخانے میں دینے کی اجازت دی جائے، اس کے علاوہ عدالت کو سیکیورٹی خدشات پر باضابطہ درخواست بھی دی جائے گی۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ جب آپ کی درخواست آئے گی تب جائزہ لیں گے، ساتھ ہی عدالت نے ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک کی حاضری سے استثنی کی استدعا مسترد کردی۔

دوران سماعت بحریہ ٹاؤن کی جانب سے کراچی کے منصوبے میں ضمانت کے طور پر دی گئی ملک ریاض اور ان کے اہل خانہ کی جائیدادوں کو تبدیل کرنے کی درخواست کی گئی جس پر عدالت نے ضمانت میں تبدیلی کی ہدایت کردی اور آئندہ ہفتے تمام ڈائریکٹرز کو ضمانت کے ہمراہ رجسٹرار آفس میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ فیصلے پر صرف عملدرآمد کروانا ہے، دلائل نہیں سنیں گے، اس پر وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ میڈیا ٹاؤن، پاکستان ٹاؤن، جوڈیشل ٹاؤن سمیت کئی منصوبے جنگلات کی زمین پر ہیں۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایک نام آپ لینا بھول گئے ہیں، ڈی ایچ اے کا نام کیوں نہیں لیتے؟ اس پر وکیل بحریہ ٹاؤن طارق رحیم نے کہا کہ ڈی ایچ اے شاملات کی زمین پر پے۔

بعد ازاں عدالت نے جنگلات کی زمین پر قبضے سے متعلق پنجاب حکومت سے رپورٹ طلب کرلی اور کہا کہ جس نے بھی قبضہ کیا ہوا اس سے نمٹ لیں گے۔

اس موقع پر عدالت نے ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی، کمشنر راولپنڈٰی کو بھی نوٹس جاری کردیا اور آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ حکام کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا، جس کے بعد کیس کی مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ 21 مارچ کو عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے منصوبے کی زمین کی مد میں 460 ارب روپے کی پیش کش قبول کرتے ہوئے نیب کو ریفرنس دائر کرنے سے روک دیا تھا۔

اسی طرح بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اپنے تخت پڑی راولپنڈی کی 5 ہزار 4 سو 72 کینال کی زمین کی مد میں 22 ارب جبکہ سلختر اور مانگا مری کے منصوبے کی 4 ہزار 5سو 42 کینال زمین کے عوض23 ارب روپے کی پیش کش کی تھی۔

یاد رہے کہ 4 مئی 2018 کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کیس کا فیصلہ دیا تھا اور منصوبے کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا جبکہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 1-2 کی اکثریت سے بحریہ ٹاؤن اراضی سے متعلق کیسز پر فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجنے اور 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے اپنے ایک اور فیصلے میں اسلام آباد کے قریب تخت پڑی میں جنگلات کی زمین کی از سر نو حد بندی کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ تخت پڑی کا علاقہ 2210 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے، لہٰذا فاریسٹ ریونیو اور سروے آف پاکستان دوبارہ اس کی نشاندہی کرے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا تھا۔