خیبرپختونخوا میں پولیو کے مزید 2 کیسز سامنے آگئے

اپ ڈیٹ 23 اپريل 2019

ای میل

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق صرف پشاور کی 24 یونین کونسلز میں انسداد پولیو مہم معطل ہے۔ فائل فوٹو: ڈان
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق صرف پشاور کی 24 یونین کونسلز میں انسداد پولیو مہم معطل ہے۔ فائل فوٹو: ڈان

خیبرپختونخوا میں پولیو کے مزید 2 کیسز سامنے آگئے جس کے بعد رواں برس ملک میں پولیو کیسز سامنے آنے کی کل تعداد 8 ہوگئی۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) برائے انسداد پولیو کا کہنا ہے کہ ایک کیس شمالی وزیرستان اور ایک کیس بنوں میں سامنے آیا۔

قومی ادارہ صحت نے بنوں کے علاقے کوٹ بیلی میں 22 ماہ کے حمزہ اور شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ کی تحصیل احمد خیل کی رہائشی 2 سالہ بچی رضیہ سے لیے گئے نموموں میں پولیو وائرس موجود ہونے کی تصدیق کی۔

مزید پڑھیں: 10 شہروں کے گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق

ای او سی حکام کا کہنا ہے انسداد پولیو مہم کے دوران پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف پشاور کی ہی 24 یونین کونسلز میں مہم تعطل کا شکار ہے۔

خیال رہے کہ صوبائی دارالحکومت میں انسداد پولیو مہم اس وقت ماند پڑ گئی تھی جب سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پولیو ویکسین لینے کے بعد کچھ بچوں کی حالت خراب ہوگئی تھی جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ایسی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مشتعل افراد نے سرکاری صحت کے مرکز پر دھاوا بول کر املاک کو نقصان پہنچایا تاہم کچھ بعد میں وہ ویڈیو جھوٹی ثابت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: اربوں روپے کے انسداد پولیو اور ہائی وے منصوبوں کی منظوری

ای او سی حکام کا کہنا تھا کہ پولیو ورکرز کی سیکیورٹی کو ذہن میں رکھتے ہوئے انسدادِ پولیو مہم کو روکا گیا ہے۔

صوبائی وزیر صحت فاروق جمیل نے پولیو وائرس کا شکار ہونے والے بچوں کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہرادیا۔

انہوں نے پشاور واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں صورتحال بہتر ہونے اور والدین کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد مہم کا دوبارہ آغاز کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: باجوڑ: 2 بچوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لوگ پولیو ویکسین کے پیچھے یہودی سازش کی بات کر رہے ہیں، وہ اپنے بچوں کو غیرملکی دودھ اور بسکٹس مہیا کرتے ہیں۔

فاروق جمیل نے کہا کہ پشاور جیسے واقعات سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بچوں کی طبعیت خراب ہونے سے متعلق جھوٹی ویڈیو کا سراغ لگانے پر میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ ڈرامہ کیا گیا جو ایک اسکول سے شروع ہوا اور پھر پورے شہر میں پھیل گیا۔