سعودی عرب میں دہشت گردی پر 37 قیدیوں کے سرقلم

اپ ڈیٹ 23 اپريل 2019

ای میل

سعودی عرب میں 2016 کے بعد ایک ہی دن سب سے زیادہ سزائیں دی گئیں—فائل/فوٹو:رائٹرز
سعودی عرب میں 2016 کے بعد ایک ہی دن سب سے زیادہ سزائیں دی گئیں—فائل/فوٹو:رائٹرز

سعودی عرب میں دہشت گردی سے متعلق جرائم کی پاداش میں قید 37 شہریوں کے سر قلم کر دیے گئے جبکہ دوسروں کو خبردار کرنے کی غرض سے تمام افراد کو سر عام سزا دی گئی۔

خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 2 جنوری 2016 کے بعد پہلی مرتبہ ایک ہی دن اتنے بڑے پیمانے پر سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا ہے، دو سال قبل 47 افراد کے سر قلم کیے گئے تھے۔

سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے سزاؤں پرعمل درآمد کے شاہی حکم نامے کی توثیق کی جبکہ 2016 میں بھی انہوں نے احکامات دیے تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ماضی کے حکمرانوں کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر ہیں جبکہ انہیں اس معاملے پر تنقید کا بھی سامنا رہا ہے۔

سعودی عرب میں دہشت گردی سے متعلق جرائم پر سزا ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں گرجاگھروں میں حملے کرکے 300 سے زائد افراد کو ہلاک اور سیکڑوں کو زخمی کردیا گیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں پاکستانی میاں بیوی کے سر قلم

دوسری جانب سعودی سیکیورٹی فورسز نے دارالحکومت ریاض کے شمالی علاقے میں ایک قائم سیکیورٹی کی عمارت پر حملے کی کوشش کرنے والے داعش کے 4 اراکین کو فائرنگ سے ہلاک کر دیا تھا۔

جرائم پر سزا دینے کے حوالے سے جاری بیان میں سعودی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ تمام افراد کو اسلامی قوانین کے مطابق سزا دی گئی ہے، اسی طرح علما کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا کہ سزا پر عمل درآمد اسلامی قوانین کے مطابق کی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ سزا پانے والے ایک قیدی خالد بن عبدالکریم التوارجی کی لاش کو کئی گھنٹوں تک درخت پر لٹکا گیا تاہم یہ سزا کس شہر میں دی گئی اس حوالے سے وضاحت نہیں کی گئی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مجرمان کے نظریات انتہاپسندانہ تھے اور دہشت گردی کے مراکز قائم کیے تھے جس کا مقصد افراتفری پھیلانا اور ہنگامہ آرائی کرنا تھا۔

سعودی وزارت داخلہ نے کہا کہ تمام افراد کو ریاض کی خصوصی کریمنل عدالت میں قانون کے مطابق مجرم پایا گیا تھا اور یہ عدالت دہشت گردی کے حوالے سے مخصوص اور ملک کی اعلیٰ عدالت ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب: پاکستانی کے قتل کے جرم میں 4 یمنی باشندوں کے سرقلم

ان کاکہنا تھا کہ مجرمان نے سیکیورٹی تنصیبات پر حملے کیے تھے اور دھماکہ خیز مواد سے متعدد سیکیورٹی افراد کو نشانہ بنایا تھا جبکہ ملک کے مفاد کے بجائے دشمن تنظیموں سے تعاون کر رہے تھے۔

سزا پانے والے شہریوں کا تعلق ریاض، مکہ، مدینہ اور عسیر سمیت دیگر شہروں سے تھا اور سزائیں بھی مخلف علاقوں میں دی گئیں۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق تازہ سزا کے بعد سعودی عرب میں رواں برس سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد 95 ہوگئی ہے جبکہ گزشتہ برس 125 افراد کے سر قلم کر دیے گئے تھے جن میں سے زیادہ تر منشیات کے اسمگلرز تھے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ سعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ کے جرم میں پاکستانی میاں بیوی کے سر قلم کر دیے گئے تھے۔ قبل ازیں ایک پاکستانی سیکیورٹی گارڈ کے قتل کے جرم میں یمن سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کے سرقلم کیے گئے تھے۔