افواہوں کے بعد انسداد پولیو مہم کو مشکلات کا سامنا

اپ ڈیٹ 24 اپريل 2019

ای میل

بڑی تعداد میں والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا—تصویر:فائل/اے ایف پی
بڑی تعداد میں والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا—تصویر:فائل/اے ایف پی

پشاور: پولیو ویکسین سے بچوں کی طبیعت خراب ہونے کی جھوٹی خبروں اور حتیٰ کہ اموات کی افواہوں کی وجہ سے پھیلنے والے خوف و ہراس کے باعث خیبرپختونخوا کے متعدد علاقوں میں ہزاروں افراد نے اپنے بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس بنیادی صحتی مرکز کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی تحقیقات کررہی ہے اور اس سلسلے میں کئی مقدمات درج کیے گئے ہیں اور ایک شخص کو حراست میں لیا گیا جبکہ 12 افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ روز پولیو مہم میں ڈیوٹی پر تعینات ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا جبکہ بنوں اور شمالی وزیرستان میں پولیو کے 2 نئے کیسز بھی سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: اسکول کے 75 بچوں کی حالت غیر،مشتعل افراد کا صحت مرکز پر دھاوا

پولیو حکام کے مطابق ضلع چارسدہ کے مختلف علاقوں میں بڑی تعداد میں والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا، ان کے مطابق پولیو ٹیم کے اراکین نے صبح 10 بجے اس وقت مہم ختم کردی جب کوئی بھی اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر تیار نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ پیر کے روز پشاور کے علاقے بڈھ بیر سے غیر تصدیق شدہ خبریں آئی تھیں کہ چکر اور پیٹ درد کی شکایت پر کئی بچے ہسپتالوں میں لایا گیا ہے اور سیکڑوں بچوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھی پہنچایا گیا تھا جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پشاور: پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والا شخص جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

ان افواہوں میں مزید ہیجان مساجد سے ہونے والے اعلانات نے پیدا کردیا جس میں اپنے بچوں کو پولیو ویکسین نہ پلانے کی تاکید کی گئی تھی، اس اضطراب میں سوشل میڈیا پر ویکسینیشن کے خلاف وائرل ہونے والی ویڈیو سے مزید پیچیدگی پھیل گئی۔

بعد ازاں پشاور پولیس نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں انسداد پولیو مہم کے خلاف غلط معلومات فراہم کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا تھا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر زیر گردش ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پشاور کے علاقے ماشوخیل کا رہائشی نذر محمد حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ہے، جہاں بڈھ بیر کے اسکول کے ان بچوں کو لایا گیا ہے جنہیں انسداد پولیو مہم کے دوران طبیعت خرابی کی شکایات ہوئی تھیں۔

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نذر محمد انتظامیہ پر الزام لگاتے ہوئے بچوں کی طبیعت خرابی کی وجہ ویکسین کو قرار دے رہا ہے اور اپنے برابر میں کھڑے بچوں کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ یہ سارے بے ہوش پڑے ہیں۔

ویڈٰیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزم بچوں کو حکم دے رہا ہے کہ ’سوجاؤ‘ جس کے فوری بعد بچے ہسپتال کے بستر پر لیٹ جاتے ہیں جیسے وہ بیمار ہوں۔

اس کے ساتھ ساتھ جب ایک بچہ اٹھنے کی کوشش کرتا ہے تو ویڈیو میں موجود نذر محمد اسے دوبارہ ’سونے‘ کا کہتا ہے جس پر وہ بستر پر دوبارہ لیٹ جاتا ہے۔

دوسری جانب کوہاٹ میں پولیو مہم کے فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کے 6 ہزار 8 سو 98 واقعات رونما ہوئے جبکہ ایک لاکھ 5 ہزار افراد نے رضاکارانہ طور پر اپنے بچوں کو قطرے پلوائے۔

اس ضمن میں ایک عہدیدار ڈاکٹر محبت خان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے پولیو کے قطرے سے پلوانے سے انکار کیا ان میں 65 فیصد افغان مہاجرین ہیں۔

اسکولوں کا پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار

مذکورہ واقعات اور افواہیں سامنے آنے کے بعد پشاور میں اسکولوں نے پولیو ٹیمز کو طلبا کو قطرے پلانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

ضرور پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پولیو کے مزید 2 کیسز سامنے آگئے

آل پاکستان پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن پشاور کے صدر ڈاکٹر ذاکر شاہ اور نیشنل ایجوکیشن کونسل کے صدر نذر حسین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ویکسین کے مبینہ ری ایکشن کے بارے میں سن کر شدید حیرانی ہوئی اور ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکول انتظامیہ والدین کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتی اس لیے ہم بچوں کو اسکول میں پولیو کے قطرے پلانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ڈاکٹر ذاکر شاہ کا کہنا تھا کہ اگر والدین گھروں پر اپنے بچوں کو ویکسین نہیں پلانا چاہتے تو نجی اسکول کس طرح والدین کی مرضی کے بغیر اپنے احاطے میں طلبا کو پولیو کے قطرے پلوا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے میں پولیو رضاکار قتل

انہوں نے اس خوف کا اظہار کیا کہ اگر اسکول میں قطرے پلوانے کی صورت میں کوئی ری ایکشن ہوگیا تو والدین اسکولوں کو آگ لگا سکتے ہیں انہوں نے تجویز دی کہ پولیو ٹیمز اسکول کے اوقات کے بعد گھروں پر پولیو کے قطرے پلوانے کے لیے جائیں۔

دارالحکومت میں پولیو مہم مسائل کا شکار

دوسری جانب اسلام آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں بھی والدین نے پشاور میں ہونے والے واقعات کے بعد پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا۔

شہری انتظامیہ کے مطابق پولیو ورکرز اور ٹیمز کو پولیو مہم کے پہلے روز مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، دیہی علاقوں میں تقریباً نصف والدین اور اسکولوں نے جبکہ شہری علاقوں میں35 سے 40 فیصد افراد نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں پولیو ویکسین سے انکار کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ

اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم گزشتہ کئی ماہ سے کامیابی کے ساتھ پولیو مہم جاری رکھے ہوئے تھے اور شہر میں چار ماہ سے پانی کے نمونوں کے پولیو ٹیسٹ کے نتائج منفی آرہے تھے۔

انہوں نے والدین اور اسکول انتظامیہ سے اپیل کی کہ پولیو مہم کے خلاف جھوٹی افواہوں کو سنجیدہ نہ لیں کیوں کہ یہ ایک سازش کے تحت پھیلائی جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو افراد اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکار کریں گے ان کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے اور اس سلسلے میں مقدمہ بھی درج کیا جاسکتا ہے۔