آمدن سے زائد اثاثہ کیس: اسحٰق ڈار کے خلاف واجد ضیا کا بطور گواہ بیان قلمبند

اپ ڈیٹ 24 اپريل 2019

ای میل

اسحٰق ڈار کی ہدایت پر بینک اکاؤنٹس کھولے گئے، واجد ضیا کا بیان — فائل فوٹو: ڈان نیوز
اسحٰق ڈار کی ہدایت پر بینک اکاؤنٹس کھولے گئے، واجد ضیا کا بیان — فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں فیڈرل انویسٹی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) اور متعلقہ کیس میں استغاثہ کے گواہ واجد ضیا نے بطور گواہ اپنا بیان ریکارڈ کروادیا۔

خیال رہے کہ واجد ضیا پاناما پیپرز اسکینڈل کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کی آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ تھے۔

واجد ضیا نے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا اسحٰق ڈار کے اثاثوں میں 83-1982 سے لے کر 2008 میں کئی گنا اضافہ ہوا، جن کی کل مالیت پہلے 91 لاکھ روپے تھی جو 2008 تک بڑھ کر 83 کروڑ 16 لاکھ روپے ہوگئی۔

مزید پڑھیں: ’ملکی معیشت میں بہتری کیلئے اسحٰق ڈار کو وزیر خزانہ بنایا جائے‘

واجد ضیا کا کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار کے اثاثہ جات ان کے ذرائع آمدن سے زائد ہیں۔

خیال رہے کہ سابق وزیر خزانہ 2017 سے ہی ملک سے باہر ہیں اور وہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں متعدد نوٹسز جاری کرنے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے ہیں جس پر عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دے دیا تھا۔

اس کے علاوہ عدالت ان کی تمام منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد ضبط کرلیں تھیں، جن میں لاہور میں ان کا گھر اور پلاٹس، اسلام آباد میں پلاٹس، پارلیمنٹیرینز انکلیو میں پلاٹ، سینیٹر کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ اور 6 گاڑیاں شامل ہیں۔

واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر خزانہ نے اپنے معاونین کے ذریعے بینک آف امریکا، التوفیق انویسٹمنٹ کمپنی اور ایمریٹس بینک میں اکاؤنٹس کھلوائے۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار کی ہدایت پر ہی نیشنل بینک آف پاکستان کے سابق صدر سعید احمد اور ہجویری مضاربہ کے اراکین نے جن کا مقصد قرضے حاصل کرنا اور کاروبار کو سہولت دینا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسحٰق ڈار اثاثہ جات کیس: شریک ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بینک اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشنز سے متعلق سعید احمد نے انکار کیا تھا، جبکہ اسحٰق ڈار کے کہنے پر ہجویری مضاربہ کے ملازم محمد نعیم کو چیک بک دیں۔

واجد ضیا کا کہنا تھا کہ پیسوں کے بچاؤ کے لیے ہجویری مضاربہ کے نام سے بھی اکاؤنٹس کھولے گئے۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے کے بیان کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت 8 مئی تک ملتوی کردی جہاں اسحٰق ڈار کے وکیل استغاثہ کے گواہ سے جرح کریں گے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی 2017 کو واجد ضیا کی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا تھا جس کے ساتھ ہی وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے بھی نااہل ہوگئے تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف 3 جبکہ مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ایک ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔

علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں اسحٰق ڈار کے خلاف علیحدہ ریفرنس دائر کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔