سری لنکا کا ہولناک بم دھماکوں پر 'سنگین' غلطیوں کا اعتراف

25 اپريل 2019

ای میل

امریکی ایف بی آئی سری لنکا میں موجود ہے—فوٹو: اے ایف پی
امریکی ایف بی آئی سری لنکا میں موجود ہے—فوٹو: اے ایف پی

سری لنکا کی حکومت نے انٹیلی جنس کی پیشگی اطلاع کے باوجود ایسٹر کے موقعے پر سلسلہ وار بم دھماکے روکنے سے 'سنگین غلطی اور ناکامی' تسلیم کرلی۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ڈپٹی وزیر دفاع رووان ویجواردان نے دوران پریس کانفرنس تسلیم کیا کہ ’معلومات کے تبادلے میں شدید فقدان رہا‘۔

انہوں نے کہا کہ’حکومت کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی‘۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکا میں پاکستانیوں کی گرفتاری کے بھارتی الزامات مسترد

ان کا کہنا تھا کہ امریکی ایجنسی ایف بی آئی سری لنکا میں موجود ہے اور برطانیہ سمیت آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات نے بھی انٹیلی جنس تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

خیال رہے کہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو اور اس کے مضافات میں ایسٹر کے موقع پر ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں تقریباً 350 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بعدازاں داعش کی اعماق نیوز ایجنسی کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا تھا کہ دھماکے داعش نے کیے ہیں۔

مزیدپڑھیں: داعش نے سری لنکا میں بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی

واضح رہے کہ دھماکوں کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ انٹیلی جنس ایجنسیز نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ نیشنل توفیق جماعت حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے لیکن یہ معلومات وزیر اعظم کے دفتر میں دھماکوں کے بعد موصول ہوئیں۔

سری لنکا کی وزارت دفاع اور بھارتی حکومت کے ذرائع نے بتایا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے افسران نے اپنے سری لنکن ہم منصبوں کو پہلے حملے سے 2 گھنٹے قبل گرجا گھروں کو خطرے کی خصوصی وارننگ سے آگاہ کیا تھا۔