ڈیرہ غازی خان: کم عمر لڑکی کے ریپ، قتل میں ملوث ملزم گرفتار

ای میل

8 سالہ مہرین گھر سے کتاب لینے کے لیے نکلی تھی— فائل فوٹو: کری ایٹو کامن
8 سالہ مہرین گھر سے کتاب لینے کے لیے نکلی تھی— فائل فوٹو: کری ایٹو کامن

ڈیرہ غازی خان پولیس نے ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے کم عمر لڑکی کے ریپ اور قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا۔

8 سالہ مہرین 3 اپریل کو اپنے گاؤں میں واقع بک اسٹور سے کتاب خریدنے کے لیے گھر سے نکلی اور لاپتہ ہو گئی تھی، اگلے دن اس کی لاش انتہائی خراب حالت میں قریبی کھیت سے ملی تھی۔

مزید پڑھیں: نوشہرہ میں 9 سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق 8 سالہ مہرین کا ریب کرنے کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔

ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر عاطف نذیر نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ڈی ایس پی ریاض بخاری، انسپکٹر عامر یاسین اور سب انسپکٹر ابرار پر مشتمل ٹیم نے سائنسی طریقوں اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کو تلاش کرنے کے بعد اسے گرفتار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ تفتیشی عمل کے دوران 100 مشتبہ ملزمان کا ڈی این اے کیا گیا اور ان کا متاثرہ لڑکی کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونوں سے موازنہ کیا گیا۔

اس کے نتیجے میں ایک مشتبہ ملزم کی ڈی این اے رپورٹ نمونوں سے مل گئی جو ایک 37 سالہ کسان بلال ہے اور 2 بچوں کا باپ ہے جبکہ اس نے اقبال جرم بھی کر لیا ہے۔

گزشتہ سال این جی او ساحل کی جانب سے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2017 کے پہلے 6 ماہ کے مقابلے میں 2018 کے پہلے 6 ماہ کے دوران بچوں سے زیادتی کے واقعات میں 32 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں میں بچوں سے زیادتی کے 2 ہزار 322 مقدمات اخباراT میں رپورٹ ہوئے جبکہ اس کے مقابلے میں جنوری سے جون 2017 کے دوران رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد ایک ہزار 7 سو 64 تھی۔

یہ بھی پڑھیں: جہلم میں 8 سالہ بچی کا ریپ کرنے والا ملزم گرفتار

اعدادوشمار اس بات کا انکشاف کرتے ہیں کہ جنوری سے جون تک روزانہ 12بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، ان میں ایک ہزار 725 واقعات دیہی علاقوں میں رونما ہوئے جبکہ 597 واقعات میں شہری علاقوں میں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

لڑکوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں 47 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ 2017 کے مقابلے میں لڑکیوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں 22 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 6 سے 15سال کی عمر کے بچوں کو سب سے زیادہ زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔