جنسی ہراساں کرنے کا معاملہ، فنکاروں کا لکس ایوارڈزکابائیکاٹ

اپ ڈیٹ 25 اپريل 2019

ای میل

اس سال ایوارڈز کی 18 ویں تقریب ہوگی—فائل فوٹو: انسٹاگرام
اس سال ایوارڈز کی 18 ویں تقریب ہوگی—فائل فوٹو: انسٹاگرام

رواں برس 30 مارچ کو لکس ایوارڈز کی جانب سے نامزدگیوں کے اعلان کے فوری بعد ہی اس پر تنقید شروع ہوگئی تھی۔

ابتدائی طور پر اداکار محسن عباس حیدر، موسیقار شانی ارشد اور پروڈیوسر عبداللہ سیجا سمیت دیگر شخصیات نے 18 ویں ایوارڈز کی نامزدگیوں میں کچھ شخصیات کو نظر انداز کرنے پر جیوری کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تاہم اس کے بعد شوبز شخصیات اور خصوصی طور پر ایوارڈز کے لیے نامزد ہونے والی خواتین نے ایوارڈ سے علیحدگی کا اعلان کرنا شروع کردیا۔

’لکس ایوارڈز کی نامزدگیوں‘ سے الگ ہونے یا اپنی نامزدگیوں سے دستبردار ہونے والی شخصیات کے مطابق اس بار جیوری نے ایک ایسے شخص کو ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جن پر ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہے۔

خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے شخص کو ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے پر سب سے پہلے ماڈل ایمان سلیمان نے اپنی نامزدگی سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لکس اسٹائل ایوارڈز 2019 کی نامزدگیوں کا اعلان

ایمان سلیمان نے 31 مارچ کو ’لکس ایوارڈز‘ کی نامزگی سے خود کو الگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسے ایوارڈ کا حصہ نہیں بن سکتیں جس میں اس شخص کو بھی نامزد کیا گیا ہو جس پر خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام ہو۔

ایمان سلیمان کے بعد ملبوسات کا برانڈ ’جینریشن‘ اور میک اپ آرٹس صائمہ بارگفریڈ نے بھی اپنی نامزدگیوں سے دستربردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

سب سے پہلے ایمان سلیمان نے دستبرداری کا اعلان کیا تھا—فوٹو: انسٹاگرام
سب سے پہلے ایمان سلیمان نے دستبرداری کا اعلان کیا تھا—فوٹو: انسٹاگرام

انہوں نے بھی لکس ایوارڈز میں خاتون کو مبینہ طور پر جنسی طور ہراساں کرنے والے شخص کو نامزد کرنے کے خلاف نامزدگیاں چھوڑی تھیں۔

ان کے بعد گلوکارہ میشا شفیع نے بھی لکس ایوارڈ میں اپنی نامزدگی سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

میشا شفیع نے لکس ایوارڈز نامزدگیوں کا بائیکاٹ کرنے والی خواتین اور اداکاروں کی تعریف کی اور ساتھ ہی جیوری سے درخواست کی کہ ان کا نامزد کیا گیا گانا ’میں‘ ووٹنگ سے ہٹایا جائے وہ اب اس کا حصہ نہیں رہیں گی۔

میشا شفیع کے بعد میوزک بینڈ ’اسکیچز‘ نے بھی اپنی نامزدگی سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

اسکیچز کے مطابق وہ می ٹو مہم کی حمایت کرتے ہیں اور ماڈل ایمان سلیمان اور میک اپ آرٹسٹ صائمہ بارگفریڈ کے بعد وہ بھی دستبرداری کا اعلان کرتے ہیں۔

فاطمہ ناصر نے بھی دستبرداری کا اعلان کیا—فائل فوٹو: فیس بک
فاطمہ ناصر نے بھی دستبرداری کا اعلان کیا—فائل فوٹو: فیس بک

اسی طرح ایک اور میک اپ آرٹسٹ فاطمہ ناصر نے بھی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کا سامنے کرنے والے شخص کو ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے پر اپنی نامزدگی سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

دیگر شخصیات کی طرح پروڈیوسر جامی نے بھی لکس ایوارڈز میں اپنی نامزدگی سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

جامی کے مطابق وہ خواتین کا احترام کرتے ہوئے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نامزدگی سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

ان کے بعد ماڈل رباب علی نے بھی لکس ایوارڈز کی نامزدگی سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

انہوں نے نامزدگی سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے شوبز میں خواتین کے ساتھ نامناسب رویوں اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے حوالے سے بھی بات کی۔

متعدد شوبز، میوزک و فیشن شخصیات کی جانب سے نامزدگیوں سے دستبرداری کے اعلان کے بعد فیشن ڈیزائنر اور لکس ایوارڈز کے ساتھ کام کرنے والی ڈائریکٹر فریحہ الطاف نے بھی اس حوالے سے اہم بیان جاری کیا۔

فریحہ الطاف نے ٹوئیٹ کیا کہ ان شخصیات کی جانب سے دستبرداری کے بجائے اس شخص کو دستبردار ہونا چاہیے تھا جن پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہے۔

فریحہ الطاف نے ساتھ ہی کہا کہ وہ اس سال بھی لکس ایوارڈز کے ساتھ کام کریں گی کیوں کہ وہ چاہتی ہیں کہ وہ اپنے کام اور مہم کے ذریعے کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے عمل کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں بھی‘ مہم جو گزشتہ برس سے لکس ایوارڈز شو کا حصہ ہے اس کے ذریعے خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراساں کرنے سے متعلق شعور بیدار کرنے کی مہم ہے۔

شخصیات کی جانب سے نامزدگیوں سے دستبرداری کے اعلان کے بعد لکس ایوارڈز انتطامیہ کی جانب سے بھی وضاحتی بیان جاری کیا گیا۔

لکس ایوارڈز انتظامیہ نے اپنے وضاحتی بیان میں تمام ایوارڈز نامزدگیوں کا دفاع کیا، تاہم ساتھ ہی انتطامیہ نے جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین سے اظہار ہمدردی بھی کیا۔

لکس ایوارڈ انتظامیہ نے وضاحت کی کہ ایوارڈز کی نامزدگیاں ایک خود مختار جیوری کرتی ہے، جس سے ایوارڈ انتظامیہ اور ایوارڈ کی فنڈنگ کرنے والے ادارے کا کوئی تعلق نہیں۔

ساتھ ہی کسی کیس کا حوالہ یا کسی شخص کا نام لیے بغیر بتایا گیا کہ لکس ایوارڈز انتظامیہ کو پاکستان کے قانونی نظام پر مکمل یقین ہے اور جب تک کسی کو قانونی طور پر مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ساتھ ہی انتظامیہ نے کہا کہ انہیں معاملے کی سنگینی کا بخوبی اندازہ ہے اور وہ اس معاملے پر لوگوں کے حساس جذبات کا بھی قدر کرتی ہے۔

خیال رہے کہ لکس ایوارڈز نامزدگیوں کا اعلان رواں برس 30 مارچ کو کیا گیا تھا اور یہ ایوارڈز جولائی میں دیے جائیں گے۔

اس بار مجموعی طور پر24 کیٹیگریز میں ایوارڈز دیے جائیں گے، جس میں 9 ایوارڈز کا فیصلہ لوگوں کے آن لائن ووٹ پر ہوگا۔

علی ظفر نے گلوکارہ کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا تھا—فوٹو: کوک اسٹوڈیو
علی ظفر نے گلوکارہ کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا تھا—فوٹو: کوک اسٹوڈیو

اس سال کے ایونٹ میں کئی نئی کیٹیگریز کو شامل کیا گیا ہے جن میں بیسٹ فلم ایکٹر کریٹکس، بیسٹ فلم ایکٹریس کریٹکس، بیسٹ ٹی وی ایکٹر کریٹکس اور بیسٹ ٹی وی ایکٹریس کریٹکس قابل ذکر ہیں۔

یہ نئے ایوارڈز ممکنہ طور پر کاکردگی کی بجائے مقبولیت کے باعث لکس اسٹائل ایوارڈز دیئے جانے پر ہونے والی تنقید کا نتیجہ ہوسکتے ہیں۔

ٹی وی کیٹیگری میں بیسٹ ایمرجنگ ٹیلنٹ کو بھی پہلی بار اس ایونٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

ایوارڈ کی نامزدگیوں سے قبل گلوکارہ میشا شفیع نے اداکار و گلوکار علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔

علی ظفر نے میشا شفیع کے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا تھا جس کے بعد میشا شفیع نے بھی ان کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

دونوں کا مقدمہ سیشن کورٹ لاہور میں زیر سماعت ہے۔

میشا شفیع نے 19 اپریل 2018 کو علی ظفر پر الزام لگایا تھا —فوٹو/ اسکرین شاٹ
میشا شفیع نے 19 اپریل 2018 کو علی ظفر پر الزام لگایا تھا —فوٹو/ اسکرین شاٹ