سمندرپار پاکستانیوں کے لیے اسکیمیں: ماضی اور آج میں کیا فرق ہے؟

اپ ڈیٹ 04 مئ 2019

ای میل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے قیام کا نواں مہینہ چل رہا ہے۔ حکومت ملنے سے قبل جو کام عمران خان اور ان کی پارٹی کو آسان لگ رہے تھے، اب وہی کام دردِ سر بن گئے ہیں اور اسی مشکل سے نکلنے کے لیے وزیرِ خزانہ کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے کہ شاید ایسا کرنے سے کچھ تبدیلی آجائے۔

معاشی صورتحال کپتان عمران خان کے لیے اس قدر پریشان کن بن چکی ہے کہ انہیں وہ تمام کام کرنے پڑ رہے ہیں جس پر حکومت میں آنے سے پہلے وہ شدید تنقید کیا کرتے تھے اور بار بار یہ دعوٰی کیا کرتے تھے کہ اگر ان کی حکومت آئی تو وہ یہ کام کبھی بھی نہیں کریں گے۔

جیسے، دنیا میں جاکر امداد مانگنا، آئی ایم ایف کے پاس جانا، ایمنسٹی اسکیم کا لانا، مگر بدقسمتی سے یہ سارے کام ہوئے۔ اگرچہ ایمنسٹی اسکیم کو لانے کی کوشش کی گئی مگر کابینہ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔

بہرحال، انہی اقدامات میں سے ایک اقدام پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کے اجرا کا اعلان ہے۔ پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ پر بات کرنے سے پہلے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے کس قسم کی اسکیمیں متعارف کیں اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟

قرض اتارو ملک سنوارو

پاکستانی معیشت کی بنیاد بہت مضبوط ہے کیونکہ اس میں زراعت کا اہم کردار ہے۔ مگر اس کے باوجود ملکی معیشت ہمیشہ سے بیرونی سطح پر مسائل کا شکار رہی ہے جس کو کرنٹ اکاونٹ بحران کہا جاتا ہے۔

پاکستان نے اپنے قیام یعنی 1947ء سے 2018ء تک 300 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ کیا ہے۔ اس لیے جو بھی حکومت برسرِاقتدار آتی ہے اس کو بیرونی وسائل پیدا کرنے میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی دوسری حکومت نے فروری 1997ء کو قومی قرض اتارنے کا پروگرام پیش کیا، جسے (National Debt Retirement Program - NDRP) کہا جاتا ہے، مگر یہ پروگرام قرض اتارو اور ملک سنوارو کے نام سے مشہور ہوا۔

یہ ایک وسیع البنیاد اسکیم تھی، جس میں امریکی ڈالر کے علاوہ برطانوی پاؤنڈ اور جرمن مارک میں سرمایہ کاری کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جس میں سمندر پار اور ملک کے اندر رہنے والے پاکستانیوں نے اپنی حیثیت کے مطابق سرمایہ کاری کی۔

اس اسکیم میں عطیات، قرض حسنہ (بغیر منافع کا قرض) اور 3 طرح کی مدتِ تکمیل کے سرمایہ کاری بانڈز شامل تھے۔ اگرچہ یہ اسکیم کئی سال تک جاری رہی مگر پہلے ہی سال زیادہ تر رقوم منتقل ہوئیں۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق NDRP میں عطیات کی مد میں 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر، قرض حسنہ میں 16 لاکھ ڈالر اور سرمایہ کاری کی مد میں 18 کروڑ 40 لاکھ ڈالر جمع ہوئے، یوں مجموعی طور پر 17 کروڑ 83 لاکھ ڈالر جمع ہوئے۔

اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے اس رقم کو زکوٰۃ کٹوتی سے مسثنٰی، ترسیلات پر چارجز کی معافی کے علاوہ سرمایہ کاروں کو ٹیکس کی چھوٹ بھی دی گئی تھی جبکہ اس اسکیم میں ایسے پاکستانی بھی سرمایہ کاری کرسکتے تھے جن کے ملک کے اندر غیر ملکی بینک اکاونٹس موجود تھے۔

1998ء میں ایٹمی دھماکوں کے بعد غیر ملکی اکاونٹس کی بندش اور 1999ء میں حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد یہ اسکیم غیر فعال ہوگئی۔ مگر حکومتِ پاکستان کو ایک ارب 70 کروڑ روپے قرض میں کمی ہوئی اور سود میں 17.3 فیصد کی بچت بھی ہوئی۔ اسکیم کی تمام رقوم اسٹیٹ بینک میں جمع ہوئیں اور سرمایہ کاری کرنے والوں یا قرض حسنہ دینے والوں کی رقوم واپس کردی گئیں۔

پاکستان ریمیٹنس انیشیئٹیو

پاکستان میں ترسیلات کے اضافے کے لیے سال 2009ء میں پاکستان ریمیٹنس انیشیئٹیو (پی آر آئی) کے نام سے ایک خود مختار ادارہ قائم کیا گیا، جس کا افتتاح وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین اور وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی فاروق ستار نے کیا۔

اس انیشیئٹیو کا مقصد ترسیلاتِ زر کے لیے سہولت، مدد، تیز رفتار، سستا اور آسان طریقہ کار فراہم کرنا تھا۔ اس حوالے سے پی آر آئی نے ترسیلات لانے کے لیے مختلف طریقے وضع کیے تاکہ ملک میں ہنڈی حوالہ کی حوصلہ شکنی ہوسکے اور بینکاری چینل کے ذریعے ڈالر کو ملک میں لایا جاسکے۔ پی آر آئی اسٹیٹ بینک، وزارت برائے سمندر پار پاکستانی اور وزارتِ خزانہ کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس حوالے سے پی آر آئی نے ترسیلاتِ زر کی فراہمی میں موجود رکاوٹوں کی نشاندہی کی اور مختلف سروسز کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دُور کرنے کے ساتھ ساتھ ترسیلات بھجوانے اور وصول کرنے کا عمل تیز کیا۔

پی آر آئی نے سال 2009ء میں رئیل ٹائم گروس سیٹلمنٹ اور کیش اوور کاونٹر جبکہ سال 2012ء مین انٹر بینک فنڈ ٹرانسفر متعارف کرائے ہیں۔ پی آر آئی میں اب تک 25 بینکوں نے شمولیت اختیار کی ہے اور اب ریمیٹنس وصول ہونے کے بعد وصول کرنے والے اے ٹی ایم کے ذریعے رقوم حاصل کرسکتے ہیں۔

سال 2008ء کی بات کی جائے تو اس وقت پاکستان کو 7 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں۔ عالمی بینک کے مطابق سال 2018ء میں پاکستان کو ترسیلات وصول کرنے والے 10 بڑے ملکوں میں ساتویں پوزیشن حاصل ہوئی اور پاکستان میں 20.9 ارب ڈالر کی ترسیلات آئیں، جبکہ بھارت 79 ارب ڈالر ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔

پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ

پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ ایک ڈائسپورا سرمایہ کاری اسکیم ہے۔ ڈائسپورا Diaspora یونانی زبان کا لفظ ہے، جس کا استعمال دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایسے یہودیوں کے لیے کیا گیا جو اسرائیل سے باہر رہائش رکھتے تھے اور پھر سب سے پہلے اسرائیل نے ڈائسپورا بانڈز کے ذریعے اپنی مالی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

عالمی بینک کے مطابق ڈائسپورا بانڈ وہ ملک جاری کرتے ہیں جن کے شہری دیگر ملکوں میں جاکر کام کرتے ہیں اور وہاں سے سرمایہ اپنے آبائی ملک کو فراہم کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اسرائیل، بھارت، لبنان، سری لنکا، ہیٹی، کینیا، روانڈا اور نائجیریا اس طرح کے بانڈ جاری کرچکے ہیں۔

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل نے 1951ء سے اب تک 32 ارب ڈالر حاصل کیے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا یہ ہے کہ اس نے 1951ء اور 1975ء کی جنگوں میں بانڈ جاری کیے، جس کی مدد سے اس نے 40 ارب ڈالر حاصل کیے۔ اسی طرح بھارت نے بھی 11 ارب ڈالر حاصل کیے ہیں۔ بھارت نے سال 1991ء ,1998ء اور 2000ء میں بانڈ جاری کیے جس کے ذریعے بھارت کو ادائیگی کے بحران کو قابو پانے میں بہت مدد ملی۔

پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کے حوالے سے بات چیت میں اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سلیم اللہ کا کہنا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی یہاں 21 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجتے ہیں، جو پاکستان کے لیے زرِمبادلہ حاصل کرنے کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ اور مجموعی برآمدات کا 80 فیصد ہیں۔

اتنے بڑے پیمانے پر رقوم بھجوانے کے باوجود سمندر پار پاکستانیوں کو ملک میں کوئی ایسی سہولت میسر نہیں جس کی مدد سے وہ اپنی ان بھیجی گئی رقوم کو انویسٹ کرکے کچھ کما سکیں یا بچت کرسکیں، جس کے نتیجے میں زیادہ تر سمندر پار پاکستانی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں دھوکا دہی کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔

اسی لیے حکومتِ پاکستان سمندر پار پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے پہلا فارن سیونگ سرٹیفکیٹ فراہم کررہی ہے، جس میں غیر ملکی کرنسی میں سرمایہ کاری ہوسکے گی۔ حکومت نے پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کے 2 سلوگن رکھے ہیں۔

پہلا

ملکی ترقی میں اپنا ہاتھ بٹائیں

دوسرا

منافع آپ کا مستقبل پاکستان کا

پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے سلیم اللہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے قوانین کو مدِنظر رکھ کر سرمایہ کاری اسکیم کو ڈیزائین کیا گیا ہے، جس میں منافع بھی پُرکشش رکھا گیا ہے۔ پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کو صرف بیرون ملک بینک اکاونٹ رکھنے والے پاکستانی ہی خرید سکتے ہیں۔

برطانیہ اور امریکا کی بات کی جائے تو وہاں مالیاتی مراکز میں بچت پر 3 فیصد یا اس سے بھی کم منافع دیا جاتا ہے لیکن پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ میں 3 سال کے لیے 6.25 فیصد اور 5 سال کے لیے 6.75 فیصد منافع کی شرح رکھی گئی جو مغربی ملکوں سے تقریباً دگنی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرمایہ کاری کرنے والوں کے بینک اکاونٹس میں منافعے کی رقم سال میں 2 مرتبہ منتقل کی جائے گی۔

پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کی خریداری کے لیے پاکستانیوں کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ویب سائٹ www.pakistanbanaocertificates.gov.pk پر جاکر یہ سرٹیفکیٹ خرید سکتے ہیں۔ جعل سازی کو روکنے کے لیے ویب کو نادرا کے نظام سے منسلک کیا گیا ہے جبکہ رقم آن لائن اسٹیٹ بینک کے نیویارک اکاؤنٹ میں بھی منتقل ہوسکتی ہے۔

سرٹیفکیٹ کو قبل از وقت ان کیش کرنے یا سرمایہ کاری سے رقم نکلوانے کی صورت میں بھی پاکستانیوں کو سہولت دی گئی ہے۔ اگر ان کی شپمنٹ پاکستانی کرنسی میں ہوگی تو رقم بغیر کٹوتی کے فراہم کی جائے گی اور اگر زرِمبادلہ میں رقم کی واپسی ہوئی تو معمولی کٹوتی کی جائے گی۔

پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کا اجرا کردیا گیا ہے اور اس کے بارے میں آگاہی مہم کے لیے مختلف ممالک میں ریگولیٹرز سے اجازت طلب کی گئی ہے۔ جیسے ہی یہ اجازت ملے گی خلیجی اور مغربی ملکوں میں پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کی مارکیٹنگ شروع کردی جائے گی۔

جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ ملک کے زرِمبادلہ حاصل کرنے کے لیے اہم منصوبہ ہے، اور اس طرح کے منصوبے اس صورت میں مزید اہم ہوجاتے ہیں جب ملک کو زرِمبادلہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا غیر ملکی پاکستانی اپنا سرمایہ پاکستان میں رکھ کر نہ صرف منافع حاصل کرسکتے ہیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اہم بات یہ کہ ان بانڈز پر منافع کی شرح بھی پاکستان کے غیر ملکی بانڈز کے منافع کے تقریباً مساوی رکھی گئی ہے تاکہ پاکستانیوں کو ملک کے اندر سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے۔ جو منافع بڑے بڑے مالیاتی اداروں کو دینا ہے وہ اپنے ملک سے محبت کرنے والوں کو کیوں نہ دیا جائے؟

پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری سودی نظام کے تحت کی جارہی ہے۔ لیکن اگر حکومت پاکستان بیرون ملک مارکیٹنگ سے قبل ان سرٹیفکیٹس کا اسلامی مالیات کے حوالے سے بھی کوئی پروڈکٹ ڈیزائین کرلے تو ہر پاکستانی بلاجھجک اس اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے میں آسانی محسوس کرے گا۔