صحافیوں کے خلاف کردار کشی کی منظم آن لائن مہم

اپ ڈیٹ 27 اپريل 2019

ای میل

سوشل میڈیا محقق نے گراف کی مدد سے منظم مہم چلانے والوں کی نشاندہی کی—تصویر: رضوان سعید
سوشل میڈیا محقق نے گراف کی مدد سے منظم مہم چلانے والوں کی نشاندہی کی—تصویر: رضوان سعید

کراچی: ٹوئٹر صارفین نے سوشل میڈیا کے بطور ہتھیار بڑھتے ہوئے استعمال اور متعدد پاکستانی صحافیوں کے خلاف کردار کشی کی مہم پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان غیر مہذبانہ ہیش ٹیگز کے پہلے سلسلے کا آغاز بدھ کو ہوا جس کے تحت نازیبا القابات اور تدوین شدہ تصاویر کی مدد سے ماروی سرمد، مبشر زیدی اور عمر چیمہ کو نشانہ بنایا گیا۔

ان ٹرینڈز کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ماروی سرمد کے خلاف چلائی گئی مہم کے دوران صرف 2 گھنٹے کی مختصر مدت میں 11 ہزار ٹوئٹس کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کے صحافی اپنی جان خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور

جس کے بعد جمعہ کو مزید 7 صحافیوں کو بدسلوکی اور ہتک آمیز مواد کا سامنا کرنا پڑا جس میں سلیم صافی، ارشد وحید چوہدری اور فخردرانی شامل ہیں جن پر اپوزیشن جماعتوں سے رقم وصول کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

ارشد وحید چوہدری پر کسی نامعلوم شخص نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے پہلے سے طے کردہ سوال پوچھنے کا الزام لگایا جس کے بعد ان پر تنقید کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے بعد انہوں نے ایک ٹوئٹ کر کے کہا کہ ’اس رجحان سے ٹرینڈز چلانے والوں کی تکلیف کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے‘۔

سوشل میڈیا پر تحقیق کرنے والے سعید رضوان کے مطابق ٹوئٹر صارفین نے ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے ان ہیش ٹیگز کو مقبول کیا جس کی وضاحت کے لیے انہوں نے مختلف گرافک تصاویر بھی فراہم کیں۔

سعید رضوان نے 4 مرکزی ٹوئٹر اکاؤنٹس کی نشاندہی کی جو مشتبہ اکاؤنٹس کے ایک گروہ سے منسلک تھے۔

مزید پڑھیں: فیس بک اور واٹس اپ پر خواتین کو خطرناک حد تک ہراساں کیے جانے کا انکشاف

ٹوئٹر کے قواعد و ضوابط کے مطابق یہ پلیٹ فارم کسی فرد یا گروہ کو نشانہ بنانے یا ہراساں کرنے کے رویے کی اجازت نہیں دیتا۔

لیکن اس کے باجود ٹوئٹر پر بدسلوکی کے ان ٹرینڈز کے فروغ پر صحافیوں اور اور پالیسی پر کام کرنے والے افراد نے تنقیدی آواز اٹھانے والوں کے خلاف پروپیگنڈے اور دھمکیوں دینے کے سلسلے پر ٹوئٹر کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا۔

ٹیلی ویژن میزبان عمار مسعود نے کہا کہ فرضی اکاؤنٹس اظہارِ رائے کی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ غیر مہذبانہ ٹوئٹر ٹرینڈز زیادہ تر فرضی اکاؤنٹس سے کیے جاتے ہیں جو ایک مخصوص ایجنڈے پر کام کررہے ہیں، ٹوئٹر کو ان کا نوٹس لینا چاہیے اور ان فرضی اکاؤنٹس کو بے نقاب کر کے ختم کرنا چاہیے۔

اس بارے وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد سے پوچھا گیا کہ حکومت صحافیوں کے آن لائن تحفظ کے لیے کیا اقدامات کررہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی مہم وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور وزارت داخلہ کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’سب سے زیادہ لوگ فیس بک پر ہراساں ہوتے ہیں‘

انہوں نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غیر مہذبانہ اور شہرت کو نقصان پہنچانے والا رویہ سائبر جرائم کے قوانین کے تحت قابلِ سزا ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

تاہم انہوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ یہ مہم چلانے والے اکاؤنٹس تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ’یہ قابل مذمت ہے اور پی ٹی آئی میں بدسلوکی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی ہے‘۔