ملک میں نیب چلے گا یا معیشت، سابق صدر

اپ ڈیٹ 29 اپريل 2019

ای میل

آصف علی زرداری کے مطابق نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے — فوٹو: ڈان نیوز
آصف علی زرداری کے مطابق نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے — فوٹو: ڈان نیوز

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ملک میں یا تو قومی احتساب بیورو (نیب) چلے گا یا معیشت چلے گی، دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

آصف علی زرداری نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ ملک کی معاشی صورتحال کو کیسے دیکھ رہے ہیں؟

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری، فریال تالپور کی ضمانت میں 29 اپریل تک توسیع

ایک صحافی نے پی پی پی کے شریک چیئرمین سے سوال کیا کہ کیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت 5 سال کی مدت پورے کرے گی؟ جس پر آصف علی زرداری نے مسکراتے ہوئے کہا کہ خدانخواستہ۔

ان سے صحافی نے مزید پوچھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی تحریک میں شامل ہوں گے؟ جس پر آصف علی زرداری نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ انشااللہ۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ حمایت کرتے ہیں کہ نواز شریف باہر جائیں؟ جس پر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اللہ سب کو صحت دے، ان کو اگر ضرورت ہے تو چلے جائیں اور وہ کہاں جائیں گے؟

اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے انہیں عبوری ضمانت میں 15 مئی تک کی توسیع دے دی۔

ساتھ ہی عدالت نے نیب سے تحریری جواب طلب کیا کہ آصف علی زرداری کے خلاف کتنی انکوائری چل رہی ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: 2 ملزمان پی پی پی قیادت کے خلاف گواہ بننے کیلئے تیار

دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا کسی انکوائری میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے؟ جس پر پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ پارک لین انکوائری میں آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری چیئرمین نیب نے جاری کئے۔

اس سے قبل 10 اپریل 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی بینک اکاونٹس کیس میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی عبوری ضمانت میں 29 اپریل تک توسیع کی تھی۔

کیس کا پس منظر

2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: نیب کی دوسری پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: احتساب عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کو طلب کرلیا

بعدازاں نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری آفتاب میمن، شبیر بمباٹ، حسن میمن اور جبار میمن کو گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ان ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔

اس سلسلے میں 20 مارچ کو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرائے تھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی اور ساتھ ہی آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور و دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت خارج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے نیب کے سامنے بیانات قلمبند کرادیے

جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔

احتساب عدالت کے رجسڑار نے بینکنگ کورٹ سے منتقل کئے جانے والے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اسے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی عدالت میں منتقل کیا تھا۔