’ ملک میں آئی ایم ایف کی شرائط خفیہ طور پر مسلط نہ کی جائیں‘

اپ ڈیٹ 02 مئ 2019

ای میل

پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں،شیری رحمٰن — فوٹو: ڈان نیوز
پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں،شیری رحمٰن — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ ملک میں خفیہ طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی شرائط مسلط نہ کی جائیں۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سینیٹر شیری رحمٰن نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات کے معاملے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔

شیری رحمٰن نے آئی ایم ایف کی شرائط سے متعلق پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

پی پی سینیٹر کا کہنا تھا کہ بات واضح نظر آ رہی ہے کہ مذاکرات مسلسل چل رہے ہیں، حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایم ایف سمیت باہر سے قرضہ نہیں لیں گے۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ ان چیخوں کی گونج میں وزیر خزانہ نے استعفی دیا، یہ کڑوی گولی اگر کھانی تھی تو کیا آپ نے مطالعہ نہیں کیا؟

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف سے تکنیکی سطح کے مذاکرات، 6 سے 8 ارب ڈالر کا پیکج متوقع

انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم لانا بھی جادو کی چھڑی نہیں ہوتی، بتائیں کہ شرائط کتنی سخت ہوگئی ہیں، اس حکومت کی کنٹینر کیفیت ہوگئی ہے۔

پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ خفیہ طور پر اس ملک میں آئی ایم ایف کی شرائط مسلط نہ کریں، شرائط خفیہ طور پر ملک پر مسلط کی جا رہی ہیں۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ آئی ایم ایف سے کن شرائط پر بات چیت کی ہے؟ پارلیمان کو ان تمام مذاکرات سے متعلق بے خبر کیوں رکھا گیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث بعض کابینہ ارکان کو مستعفی ہونا پڑا، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تمام شرائط پارلیمان کے سامنے رکھی جائیں۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات درست سمت میں جا رہے ہیں، حماد اظہر

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مسلسل اکتوبر سے مذاکرات ہورہے ہیں، مارچ میں آئی ایم ایف کی ٹیم تبدیل ہوئی،اس ٹیم کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا معاملہ خزانہ کمیٹی کے پاس لے آئیں گے، مذاکرات کے معاملے پر دونوں ایوانوں کی کمیٹی کو بریفنگ دیں گے۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم 10 مئی تک یہاں ہے،آئین سے انحراف نہیں کر رہے، مذاکرات مکمل ہوتے ہی خزانہ کمیٹی کو بریفنگ دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف مشن چیف نے کہا اس سے بُری معیشت پہلے کسی حکومت کو ورثے میں نہیں ملی۔

حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے 8 ماہ میں روپے کی قدر میں 10.8 فیصد کمی ہوئی جبکہ پیپلزپارٹی کے دور میں 25 فیصد ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج: ’6 سے 8 ارب ڈالر قرض ملنے کا امکان‘

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی دور میں روپے کی قدر میں کمی کا فائدہ کس کو ہوا تھا؟

حماد اظہر نے کہا کہ بیرونی قرضہ اس وقت گزشتہ سال کے مقابلے میں آدھا ہے، افراط زر 10 فیصد سے زیادہ ہر گز نہیں، افراط زر 9.4 فیصد سے کم ہو کر 8.8 فیصد ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا تو اس میں عوام کو شیلڈ کریں گے، کوئی معاملہ آئے تو اٹھارویں ترمیم، سی پیک، جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات درست سمت میں جا رہے ہیں، مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ان پر پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کو بریفنگ دیں گے ۔

سینیٹ اجلاس میں حماد اظہر کے بیان پر اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے معاملات پر بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا، رضا ربانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کو مکمل طور پر نظرانداز اور غیر موثر بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات ہوئے اور تاحال پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ وزیراعلی سندھ نے مشیر خزانہ کو خط لکھا ہے ان کے خط کا جواب تاحال نہیں دیا گیا۔

پی پی رہنما نے کہا کہ خبروں کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ایک کلیکٹنگ ایجنسی کے وجود میں لانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مزید پڑھیں: مسعود اظہر پر 'پابندی': چین کا اپنی تکنیکی رکاوٹ سے پیچھے ہٹنے کا امکان

رضا ربانی نے کہا کہ وزیر خارجہ کو آج پارلیمان میں موجود ہونا چاہیے،وزیر خارجہ ایوان میں نہیں آئے بلکہ وزارت خارجہ سے پریس کانفرنس کروائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو وفاق کے اخراجات صوبوں سے لینے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے، یہ سراسر آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس حوالے سے کون سی شرائط ہوئیں کون سی قبول ہوئیں۔