'آئی ایم ایف' کے ڈاکٹر رضا باقر اسٹیٹ بینک کے نئے گورنر مقرر

اپ ڈیٹ 04 مئ 2019

ای میل

ڈاکٹر رضا باقر — فوٹو: برٹش یونیورسٹی، مصر
ڈاکٹر رضا باقر — فوٹو: برٹش یونیورسٹی، مصر

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے طارق باجوہ کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے ڈاکٹر رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کا نیا گورنر مقرر کردیا۔

فنانس ڈویژن سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق رضا باقر کی تقرری اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956 کے سیکشن 10 (3) کے تحت کی گئی ہے۔

رضا باقر تین سال کی مدت کے لیے اس عہدے پر فرائض انجام دیں گے اور ان کی مدت ملازمت اس وقت شروع ہوگی جس دن وہ عہدہ سنبھالیں گے۔

ڈاکٹر رضا باقر کون ہیں؟

پاکستان میں سینٹر فار اکنامک ریسرچ کے مطابق رضا باقر جنوری 2016 سے رومانیہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن سربراہ کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر موجود فہرست میں انہیں مصر کے لیے فنڈ کا موجودہ سینئر ریزیڈنٹ نمائندہ بتایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر ٹھیک نہیں ہوا تو نیا ادارہ بنادیں گے، وزیراعظم

وہ آئی ایم ایف کے ساتھ 2000 سے بطور ڈیٹ پالیسی ڈویژن وابستہ ہیں۔

ڈاکٹر رضا باقر نے ہارورڈ یونیورسٹی سے گریجوایٹ کیا اور بعد ازاں کیلی فورنیا یونیورسٹی، بارکلے سے اقتصادیات میں 'پی ایچ ڈی' کیا۔

وہ عالمی بینک، میساچیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور سوئٹزرلینڈ کی یونین بینک کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے گورنر اسٹیٹ بینک اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا تھا۔

طارق باجوہ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) وفد سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں موجود تھے جب انہیں ان کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے کہا گیا۔

ان دونوں تبدیلیوں کو انتہائی غیر متوقع قرار دیا جارہا ہے کیونکہ چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان جمعہ کی رات وہ ملاقاتیں طے کر رہے تھے جو انہیں ہفتہ کے روز کرنی تھیں اور اسی دوران ان کی برطرفی کی خبر نیوز چینلز کی زینت بنی۔

مزید پڑھیں: ’اسد عمر کو ہٹانے کے پیچھے سیاسی وجوہات تھیں‘

اسی طرح طارق باجوہ بھی آئی ایم ایف پروگرام کو حتمی شکل دینے سے قبل مذکرات کے آخری دور میں شرکت کررہے تھے۔

طارق باجوہ اور جہانزیب خان دونوں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں گریڈ 22 کے افسران ہیں حالانکہ اس سے قبل اس عہدے پر ریٹائرڈ افسران کو تعینات کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ایف بی آر کو رواں مالی سال کے اختتام کے قریب اپنی تاریخ کے سب سے سنگین شارٹ فال کا سامنا ہے جو تقریباً 3 کھرب 50 ارب روپے سے زائد ہے۔