عورت مارچ کے خلاف خاتون کی درخواست سماعت کیلئے منظور

اپ ڈیٹ 06 مئ 2019

ای میل

درخواست گزار کے مطابق 9 مارچ کو خواتین نے عورت مارچ کا انعقاد کیا تھا — فائل فوٹو/ رائٹرز
درخواست گزار کے مطابق 9 مارچ کو خواتین نے عورت مارچ کا انعقاد کیا تھا — فائل فوٹو/ رائٹرز

لاہور کی مقامی عدالت نے عورت مارچ کے خلاف خاتون کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرلیا۔

سیشن کورٹ میں آمنہ ملک نامی خاتون نے عورت مارچ کے نام پر مبینہ طور پر غیر اخلاقی اقدار کو فروغ دینے کے خلاف درخواست جمع کروائی تھی۔

ایڈیشنل سیشن جج عامر حبیب نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی درخواست پر سماعت کی اور عدالت نے سی سی پی او لاہور اور کمپلینٹ ریڈرسل سیل کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔

مزید پڑھیں: عورت مارچ: فاصلہ رکھیں اس ماں کی بد دعا لگ سکتی ہے

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 9 مارچ کو خواتین کی جانب سے عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا، جس میں 'خواتین نے اخلاقیات سے گرے ہوئے نعرے لگائے اور بینرز آویزاں کیے'۔

انہوں نے بتایا کہ غیر اخلاقی نعروں پر مبنی پلے کارڈز کو درخواست کا حصہ بنایا گیا ہے، عورت مارچ میں گلوکارہ میشا شفیع اور نگہت داد نے بھی حصہ لیا تھا۔

وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ عورت مارچ اسلامی اقدار کے خلاف ہے اور آئین قانون کے بھی منافی ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت عورت مارچ میں حصہ لینے والی خواتین اور عورت مارچ منعقد کروانے والی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ماں ہوں، بہن ہوں، گالی نہیں ہوں‘

بعد ازاں عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی اور متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اس کی سماعت 14 مئی کے لیے مقرر کردی۔

خیال رہے کہ 8 مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین منایا گیا تھا جس کا مقصد دنیا کی نصف سے زائد آبادی کو بھی مردوں جیسے حقوق دیے کا مطالبہ سامنے آیا۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی 8 مارچ کو اپنے حقوق کے لیے خواتین نہ صرف پروگرامات اور ریلیاں منعقد کرتی ہیں، بلکہ مارچ میں مارچ بھی نکالیں۔

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بھی عورت مارچ نکالا گیا، جس میں شامل خواتین اور نوجوان لڑکیوں نے قدرے منفرد نعروں سے آویزاں بینر اٹھا رکھے تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں عورت کی پریشانی کی وجہ صرف مرد نہیں بلکہ ...

عورت مارچ میں شامل شرکاء کے ہاتھوں میں ہلکے پھلکے منفرد تنقید سے بھرے نعرے نہ صرف سماج میں خواتین کی اہمیت کو اجاگر کر رہے تھے، بلکہ سماج میں اجارہ داری کو قائم رکھنے والے مردوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

کراچی کے علاوہ لاہور، ملتان، فیصل آباد، لاڑکانہ اور حیدر آباد سمیت کئی شہروں میں خواتین نے ریلیاں نکالی تھیں۔

21 مارچ کو خیبر پختونخوا اسمبلی نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے 'عورت مارچ' کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور کی تھی۔