ملک کو ون یونٹ کا خطرہ ہے نہ صدارتی نظام آرہا ہے، وزیر خارجہ

ای میل

صوبوں اور وفاق میں ایوارڈ کی تقسیم آئینی ذمہ داری ہے—اسکرین شاٹ
صوبوں اور وفاق میں ایوارڈ کی تقسیم آئینی ذمہ داری ہے—اسکرین شاٹ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے اٹھائے گئے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک کو نہ کسی ون یونٹ کا خطرہ ہے اور نہ ہی کوئی صدارتی نظام آرہا ہے۔

ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، جہاں مختلف معاملات پر حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے درمیان بحث ہوئی۔

اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ گزشتہ دور حکومت میں آنا چاہیے تھا، اسد عمر کی جانب سے صوبائی حکومتوں سے متعدد مرتبہ درخواست کی گئی کہ رکن کی نامزدگی کریں تاکہ این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ مکمل ہوسکے، تاہم صوبائی حکومتوں نے ان نامزدگیوں میں تاخیر کی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بالخصوص سندھ حکومت این ایف سی ایوارڈ میں تاخیر کی ذمہ دار ہے، ریکارڈ پر موجود ہے کہ سندھ حکومت نامزدگیان کرنے میں ناکام رہی۔

مزید پڑھیں: ’صدارتی نظام یا پارلیمانی نظام‘ کی بحث ایک بار پھر زندہ

این ایف سی ایوارڈ پر ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں اور وفاق میں ایوارڈ کی تقسیم آئینی ذمہ داری ہے جسے ہم 5 سالہ دور میں نبھانے کی کوشش کریں گے لیکن اس طرح پیسے کی بربادی نہیں کریں گے جیسے کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آج سندھ کی کیا حالت ہے، پورے سندھ میں ایڈز پھیل چکا ہے، سندھ کی بربادی ہوگئی ہے اس پر توجہ دیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بہت باتیں کی گئی کہ پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل میں جارہا ہے اور یہ ایسا ڈراؤنا خواب ہے جو ہمیں دکھایا جارہا ہے لیکن سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان آئی ایم اے کے پاس کیوں گیا، جب ملک میں میکرو اکنامک عدم استحکام ہو تو حکومت کو آٗئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک نئی حکومت کو آتے ہی بتایا جائے کہ گزشتہ حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر غیرملکی زرمبادلہ صرف 6 ہفتوں کو رہ گیا ہے تو پھر خطرے کی گھنٹی بچتی ہے، جب یہ بتایا جائے کہ مالی خسارہ جی ڈی پی کا 6.6 فیصد ہوگیا ہے تو خطرے کی گھنٹی ہے، جب یہ بتایا جائے کہ تجارتی خسارہ بہت بڑھ گیا ہے تو تشویش لاحق ہوتی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جب حکومت آئی تو معاشی عدم استحکام تھا، بہت کوشش کی کہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں، اس کے لیے دوست ممالک سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات سے مدد لی اور انہوں نے ہمیں سہارا دیا لیکن اس کے باوجود خلا بہت زیادہ تھا۔

شاہ محمود قریشی نے سابق حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ نہیں بلکہ 16 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گئے ہیں لیکن آج انہیں تشویش ہورہے ہے جبکہ جب یہ لوگ گئے تو معیشت کا جنازہ نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: صدارتی نظام کے نفاذ سے ملک ٹوٹے گا، بلاول کا انتباہ

اس موقع پر شاہ محمود قریشی کے خطاب پر شیریٰ رحمٰن اور رضا ربانی کے درمیاں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

نئے تقرر کیے گئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کے بارے میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وہ ایک پاکستانی ہیں، وہ اپنی اہلیت کی بنیاد پر آئے ہیں، آج وہ ملک کی خدمت کے لیے آرہے ہیں تو وہ پاکستان کے لیے خدمات پیش کرنے آرہے ہیں۔

انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے حب الوطنی کی ٹھیکیداری آپ کے پاس نہیں ہے، رضا باقر پاکستان کے بیٹے ہیں، انہوں نے یہاں تعلیم حاصل کی اور وہ واپس آرہے ہیں جبکہ دوہری شہریت کی پابندی صرف پارلیمنٹیرینز پر ہیں۔

سینیٹز کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو کوئی خطرہ ہے۔

اس دوران انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ملک ون یونٹ کی طرف نہیں جارہا اور نہ ہی صدارتی نظام آرہا ہے جبکہ 18 ویں ترمیم بھی رول بیک نہیں ہورہی۔

اس سے قبل اجلاس کے دوران وزیر داخلہ بریگیڈیر (ر) اعجاز شاہ کی ایوان میں عدم حاضری پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سخت احتجاج کیا گیا۔

وزیر داخلہ کی عدم حاضری پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، اس دوران سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ وزیر ایوان میں موجود نہیں ہیں۔

اس پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ وزیر مملکت سوالات کے جواب دے رہے ہیں، جس پر رضا ربانی نے کہا کہ وزیر مملکت نہیں متعلقہ وزیر کو ایوان میں موجود ہونا چاہیے۔

تاہم اسی دوران حکومتی سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کابینہ اجلاس کے باوجود وزرا ایوان میں موجود ہوتے ہیں، اپوزیشن جان بوجھ کر کارروائی کا ماحول خراب کرنا چاہ رہی ہے۔

شبلی فراز نے رضا ربانی سے مکالمہ کیا کہ آپ بیٹھ جائیں، آپ اپنے دور میں ایجنڈے کے علاوہ بات نہیں کرنے دیتے تھے۔

اس پر اپوزیشن نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کچھ وقت کے لیے واک آؤٹ بھی کیا گیا، تاہم بعد ازاں اپوزیشن ایوان میں واپس آگئی۔

مشیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک نے رازداری کا حلف نہیں اٹھایا، رضا ربانی

بعد ازاں سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آخری این ایف سی ایوارڈ 2010 میں جاری ہوا جبکہ آئین کہتا ہے این ایف سی ایوارڈ ہر 5 سال بعد آئے گا، تاہم 9 سال گزرنے کے باوجود این ایف سی ایوارڈ جاری نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ آمریت کے دور میں کبھی بھی این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا، کہا جاتا تھا کہ صوبے پیسے لے جاتے ہیں اور مرکز کے پاس کچھ نہیں رہتا، ابھی بھی یہی باتیں کی جا رہی ہیں۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے باعث وفاق کھوکھلا ہوگیا ہے جبکہ اس وقت جو لوگ وزیراعظم کا گھیرا کیے ہوئے ہیں وہ آئی ایم ایف کی لابی ہیں۔

مزید پڑھیں: صدارتی نظام سے متعلق کوئی سوچ ہی موجود نہیں، وزیر اعظم

اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قرضے لینے سے متعلق بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا جبکہ کل وزیر اعظم نے عندیہ دیا کہ ٹیکس وصولی صوبوں سے نہیں ہورہی لیکن اصل میں وفاق اپنا ٹیکس وصولی کرنے میں ناکام ہورہا ہے۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ کا اجرا سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے، آئی ایم ایف این ایف سی کے خلاف رہا ہے جبکہ تمام وفاقی حکومتیں اس دباؤ میں رہی ہیں کہ این ایف سی میں صوبوں کا حصہ بڑھانا ہوگا، لہٰذا اس کو روکا جائے۔

سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ فاٹا اور آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں میں صوبوں کے حصہ ڈالنے کی بات کی جارہی ہے، خدشہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف معیشت پر مکمل کںٹرول کرلے گا کیونکہ آئی ایم ایف کا حاضر سروس شخص گورنر اسٹیٹ بینک بن کر بیٹھا ہوا ہے اور اب این ایف سی ایوارڈ آئی ایم ایف کی منشا پر چلا جائے گا۔

سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ وکی لیکس کے مطابق امریکا آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے میں استعمال کرتا ہے، تمام چیزیں ان لوگوں کے سامنے سے گزریں گی جنہوں نے کوئی حلف نہیں لیا ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے رازداری کا حلف نہیں اٹھایا، ہماری دفاع سے متعلق حساس معلومات ان کے ہاتھوں میں چلی جائے گی۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قومی سلامتی خطرے پر ہے، اگر پاکستان کے صوبوں کو جائز حصہ نہیں دیا گیا تو ملک میں اندرونی عدم استحکام آئے گا۔

آئی ایم ایف کے ملازم کو پاکستان بلانا خودکشی سے زیادہ ہے، مشاہد اللہ

اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے بھی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ کہا جاتا تھا آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر ہوگا خودکشی کرلیں، آج اسی آئی ایم ایف کے ملازم کو بلاکر اسٹیٹ بینک کا گورنر بنا دیا گیا ہے۔

سینیٹر مشاہد اللہ کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ملازم کو پاکستان بلانا خودکشی سے زیادہ ہے۔

ون یونٹ کی طرف جانے سے ملک کو خطرہ ہے، سراج الحق

اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آئی ایم ایف کے آنے کے بعد سی پیک خطرے میں پڑ گیا ہے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آئی ایم ایف کا ادھر آکے نگرانی کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے بغیر جنگ کہ آزادی ان کے حوالے کردی ہے، ون یونٹ کی طرف جانے سے ملک کو خطرہ ہے۔

توجہ دلاؤ نوٹس

دوران اجلاس وزیر اعظم کے ایران پر حملوں سے متعلق بیان پر توجہ دلاؤ نوٹس کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

ابتدا میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ایوان میں عدم حاضری پر اپوزیشن نے اعتراض کیا جبکہ چیئرمین سینیٹ نے پوچھا کہ وزیر خارجہ کہاں ہیں؟

جس پر قائد ایوان شبلی فراز نے جواب دیا کہ اپوزیشن کا اعتراض جائز ہے، کابینہ اجلاس کے بعد وزیر خارجہ ایوان میں آجائیں گے، اس پر چیئرمین سینیٹ نے وزیر خارجہ کو کل طلب کرلیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ کیوں سنجیدہ نہیں لے رہے؟ وہ کل اپنی حاضری یقینی بنائیں، اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے ایران پر حملوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس موخر کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام: پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں بل پیش کردیا

دوران اجلاس پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز(پی آئی اے) ہیڈکوارٹرز کی اسلام آباد منتقلی کا معاملہ بھی زیر بحثت آیا، جہاں اپوزیشن نے ہیڈکوارٹر کی اسلام آباد منتقلی کی مخالفت کی۔

اس موقع پر مشترکہ اپوزیشن نے ہیڈ کوارٹر کی منتقلی کے خلاف سینیٹ میں قرار داد جمع کروائی، جس پراپوزیشن لیڈر راجا ظفرالحق، پارلیمانی لیڈر شیری رحمان اور دیگر ارکان کے دستخط کیے۔

قراردار میں کہا گیا کہ ایوان ہیڈکوارٹر کی اسلام آباد منتقلی کی تجویز کی مخالفت کرتا ہے اور پی آئی اے ہیڈکوارٹر کراچی میں قائم رکھنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

قبل ازیں سینیٹ کے اجلاس میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن نے اس اضافے کے خلاف تحریک التوا جمع کروادی۔

شیریٰ رحمٰن نے کہا کہ پیٹرول قیمتوں میں اضافے سے عوام پر مزید بوجھ بڑھ گیا ہے، رمضان کی آمد ہوتے ہی پیٹرول سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔

حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے، جے یو آئی

ادھر سینیٹ اجلاس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن رہنما اور جے یو آئی کے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی حکومت پر تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت عقل اور ہوش کے ناخن لے اور بوکھلاہٹ میں حماقت کا راستہ اختیار نہ کرے۔

مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ حکومت مختلف طریقوں سے تنگ کررہی ہے اور اس کی وجہ وجہ ہمارا 25 جولائی کے انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنا ہے، ہم نے ہی نہیں بلکہ تمام اپوزشین نے حکومت کے مینڈیٹ کو جعلی کہا تھا۔

ان کا کہنا تھا حکومت جمعیت علماء اسلام کو اصولی موقف سے ہٹانے کی کوشش کررہی ہے تاہم ہم واضح کردیں کہ ایک انچ بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مزید پڑھیں: آج آئی ایم ایف کے نمائندے اپنی شرائط منوا رہے ہیں، عبدالغفور حیدری

جے یو آئی رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے، مولانا فضل الرحمٰن پر حملوں کے باوجود سیکیورٹی واپس لینا بد نیتی ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مولانا کو کوئی نقصان ہوا تو اس کی ذمہ دار ریاست ہوگی اور ہم وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیراعلی کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں گے۔

مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے معاملے پر کہا تھا کہ میں خودکشی کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ آج ایسٹ انڈیا کمپنی کا ماحول بنایا جارہا ہے، رضا باقر کو گورنر اسٹیٹ بینک لگایا گیا ہے جس کا آئی ایم ایف سے تعلق ہے جبکہ ایف بی آر کے چئیرمین بھی آئی ایم ایف سے ہی ہیں۔

سینیٹر نے دعویٰ کیا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کا شناختی کارڈ بھی ایک ہی رات میں بنایا گیا، جب آئی ایم ایف کے لوگ ایسی جگہوں پر ہوں تو مخفی راز چھپے نہیں رہتے۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے اپنی ٹیم کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے، جس پر انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔