عافیہ صدیقی اپنی رہائی کیلئے امریکا میں اپیل دائر کرنے پر آمادہ ہوگئیں، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 08 مئ 2019

ای میل

ہوسٹن میں قونصل جنرل عافیہ صدیقی سے ملاقات کرتا ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
ہوسٹن میں قونصل جنرل عافیہ صدیقی سے ملاقات کرتا ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا ہے کہ امریکا میں قونصل جنرل سے ملاقات کے بعد وہاں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنی رہائی کے لیے اپیل دائر کرنے پر آمادہ ہوگئی ہیں۔

ایوان بالا (سینیٹ) میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے جمع کروائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ حکومت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس لانے کا معاملہ امریکی حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوسٹن میں قونصل جنرل نے 18 اپریل 2019 کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے آخری ملاقات کی ہے، اس ملاقات میں عافیہ صدیقی نے رہائی کے لیے اپیل دائر کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

تحریری جواب میں بتایا گیا کہ امریکی عدالتی نظام کے مطابق اپیل دائر کرنے کا فیصلہ صرف عافیہ صدیقی ہی کرسکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر عافیہ خود پاکستان نہیں آنا چاہتیں، دفتر خارجہ

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ہوسٹن میں قونصل جنرل عافیہ صدیقی سے ملاقات کرتا ہے تاکہ ان کی صحت معلوم کی جاسکے اور ان کا پیغام اہل خانہ کو پہنچایا جاسکے۔

اس دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہا کہ ہماری حکومت سمیت ہر حکومت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس امریکا کے ساتھ ہر سطح پر اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے بچے اور بہنوئی امریکا میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس پر کام کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ کی جانب سے دیے گئے تحریری جواب پر سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ہماری کمیٹی امریکا میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کرنے گئی تھی، اس کیس کے حوالے سے کچھ نہیں ہورہا۔

انہوں نے سینیٹ میں درخواست کی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس متعلقہ کمیٹی کو بھجوایا جائے۔

بعد ازاں چیئرمین سینیٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق کیس متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا۔

علاوہ ازیں وزیر خارجہ کی جانب سے جمع کروائے گئے تحریری جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ سعودی عرب کی العصا جیل میں 88 پاکستانی قید ہیں، جن میں سے 46 کو سزا ہوگی جبکہ 42 کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جیل میں 9 پاکستانی اپنی سزا پوری کرچکے ہیں مگر جرمانے کی عدم ادائیگی کے باعث رہائی کا انتظار کر رہے ہیں۔

الیکشن ایکٹ ترمیمی بل سینیٹ سے منظور

ادھر سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن کے واک آؤٹ کے باعث حکومت ایوان میں اکثریت نہ رکھنے کے باوجود الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی۔

سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ اس بل کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے بل کو فوری منظور کیا جائے۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ بل سابق ایف آر علاقوں پر مشتمل ایک حلقہ بنانے سے متعلق ہے، بل قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور ہو چکا ہے۔

اس پر چیئرمین سینیٹ نے بل کی شق وار ایوان سے منظوری لی، تاہم اسی دوران سینیٹر غوث نیازی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی گئی۔

تاہم چیئرمین سینیٹ نے غوث نیازی کی کورم کی نشاندہی نظر انداز کردی۔

بعد ازاں بل کی منظوری کے بعد چیئرمین سینیٹ کا غوث نیازی سے مکالمہ کیا کہ آپ کچھ کہ رہے تھے ، تاہم بل کی ریڈنگ کے دوران کورم کی نشاندہی نہیں ہوسکتی۔

عافیہ صدیقی کی کہانی

پاکستانی شہری عافیہ صدیقی کی کہانی 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' سے جڑی کہانیوں میں سب سے اہم ہے، جو مارچ 2003 میں اُس وقت شروع ہوئی جب القاعدہ کے نمبر تین اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔

خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد مبینہ طور پر 2003 میں ہی عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیں: عافیہ صدیقی سے متعلق بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر چلایا گیا، ترجمان دفترخارجہ

لاپتہ ہونے کے 5 سال بعد عافیہ صدیقی کو امریکا کی جانب سے 2008 میں افغان صوبے غزنی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

امریکی عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 'عافیہ صدیقی کے پاس سے 2 کلو سوڈیم سائینائیڈ، کیمیائی ہتھیاروں کی دستاویزات اور دیگر چیزیں برآمد ہوئی تھیں، جن سے عندیہ ملتا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہیں'۔

دستاویزات کے مطابق جب عافیہ صدیقی سے امریکی فوجی اور ایف بی آئی عہدیداران نے سوالات کیے تو انہوں نے مبینہ طور پر ایک رائفل اٹھا کر ان پر فائرنگ کر دی، جوابی فائرنگ میں وہ زخمی ہوگئیں، جس کے بعد انہیں امریکا منتقل کر دیا گیا جہاں 2010 میں انہیں اقدام قتل کا مجرم قرار دے کر 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔