حکومت کا 10 جون تک بجٹ پیش کرنے پر غور

اپ ڈیٹ 09 مئ 2019

ای میل

رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو بجٹ پیش کیے جانے کے امکان کے باعث فیڈرل بورڈ آف ریونیو مشکلات کا شکار ہوگیا تھا — فائل فوٹو/ڈان
رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو بجٹ پیش کیے جانے کے امکان کے باعث فیڈرل بورڈ آف ریونیو مشکلات کا شکار ہوگیا تھا — فائل فوٹو/ڈان

فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کے عہدیدار نے بتایا ہے کہ موجودہ اور آئندہ چیئرمین سے متعلق جاری تذبذب کے باعث حکومت اب 10 جون کو بجٹ پیش کرنے پر غور کررہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نامزد چیئرمین شبر زیدی کی تعیناتی پر رضامند کرنے کے لیے ملک کے 2 بڑے ٹیکس گروپ سے بات چیت کی۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کے نامزد چیئرمین شبر زیدی نے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی۔

تاہم وزیراعظم سے ملاقات کے نتائج کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا تھا۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ملاقات کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد نے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں تعینات ان لینڈ ریونیو سروس اور کسٹمز گروپ کے 14 افسران کو اجلاس کے لیے وزیراعظم سیکریٹریٹ طلب کیا تھا۔

افسران سے ملاقات کے دوران مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں: ٹیکس افسران کی شبر زیدی کو ایف بی آر چیئرمین تعینات کرنے پر قانونی کارروائی کی دھمکی

خیال رہے کہ چیئرمین ایف بی آر کے تقرر کا معاملہ اس وقت سنگین صورتحال اختیار کرگیا تھا جب ان لینڈ ریونیو افسران کی نمائندگی کرنے والی ایسوسی ایشن نے شبر زیدی کی تعیناتی کو عدالت میں چیلنج کرنے کی دھمکی تھی۔

انہوں نے ایف بی آر چیئرمین کی تبدیلی کے وقت سے متعلق خدشات کا اظہار بھی کیا تھا کیونکہ اس وقت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مذاکرات بھی چل رہے ہیں۔

وزیراعظم سیکریٹریٹ میں بلائے گئے اجلاس میں شریک 14 افسران میں سے 8 افسران 22 گریڈ جبکہ دیگر 21 گریڈ کے تھے۔

ان میں سے ایک نے ڈان کو بتایا کہ ’ہم نے خاص طور پر کراچی میں موجود افسران کے خدشات مشیر تک پہنچا دیے ہیں‘۔

اجلاس میں شبر زیدی کی تعیناتی سے متعلق 2 اعتراضات اٹھائے گئے تھے، اول یہ کہ وہ نجی شعبے کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں، جن کا کام بڑے کاروباری اداروں کو ٹیکس معاملات سے متعلق ہدایات دینا ہے۔

دوسرا یہ کہ ایسے عہدوں پر نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی نامزدگی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پیش کی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آر تعینات کردیا، وزیراعظم

اجلاس کے دوران ارباب شہزاد سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ’اب آپ یہ کیسے اُمید کرتے ہیں کہ وہ ایف بی آر کے مفادات کو فروغ دیں گے‘۔

جب افسران کو یاد دہانی کروائی گئی کہ وزیراعظم نے اپنے اختیارات کا استعمال کیا تھا جس پر افسران نے کہا کہ ’ہم وزیراعظم کے اختیارات کا احترام کرتے ہیں‘۔

اس کے ساتھ ہی افسران نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں نجی شعبے سے ایسے شخص کی شمولیت سے ادارے میں بد اعتمادی کا پیغام جائے گا۔

7 مئی کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کابینہ کو شبر زیدی کی تعیناتی سے متعلق شدید تحفظات پر مبنی سمری ارسال کی تھی۔

سمری میں قانونی ڈویژن کی رائے کے تحت شبر زیدی کو 2 سال کے لیے اعزازی عہدے پر تعینات کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔

تاہم وزیراعظم نے تجویز مسترد کی تھی اور ایک نوٹ کے ساتھ سمری واپس کی تھی جلد از جلد ایک حل تلاش کرلیا جائے گا۔

ایف بی آر کے موجودہ اور آئندہ چیئرمین سے متعلق جاری تذبذب سے متعلق ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومت اب 10 جون تک بجٹ کا اعلان کرنے پر غور کررہی ہے۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے 22 مئی کو بجٹ پیش کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر اپنے عہدوں سے فارغ

ذرائع کے مطابق سینئر افسران نے ارباب شہزاد کو یہ بھی بتایا کہ وہ آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ ریونیو کے معاملات اور ہدف حاصل کرنے سے متعلق اتفاق کی گئی شرائط کی ذمہ داری نہیں لیں گے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے 10 مئی تک پالیسی مذاکرات مکمل کرنے اور پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیے جانے کا امکان ہے تاہم موجودہ صورتحال کی وجہ سے اس میں بھی تاخیر کا امکان ہے۔

چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان ریونیو اکٹھا کرنے کے منصوبوں اور بجٹ پیش کرنے کی ضروری کارروائیوں کے سلسلے میں ان ہاؤس اجلاس کررہے تھے جب انہیں ٹیلی ویژن سے معلوم ہوا کہ انہیں عہدے سے برطرف کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

ایف بی آر میں موجود ذریعے نے ڈان کو بتایا کہ لیکن اب تک ان کے ٹرانسفر کے احکامات موصول نہیں ہوئے۔

مذکورہ اعلان کے بعد چیئرمین ایف بی آر اپنا کام جاری نہیں رکھ سکے اور بجٹ کی تیاریاں بھی روک دی گئیں، یہاں تک کہ وہ گزشتہ روز دفتر بھی نہیں آئے تھے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 9 مئی 2019 کو شائع ہوئی