مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) کا نائب صدر بنانے کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کردیا

اپ ڈیٹ 09 مئ 2019

ای میل

درخواست میں مریم نواز کی بطور پارٹی نائب صدر تعیناتی کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا — فائل فوٹو/اے ایف پی
درخواست میں مریم نواز کی بطور پارٹی نائب صدر تعیناتی کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا — فائل فوٹو/اے ایف پی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو پارٹی کا نائب صدر بنانے کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں باضابطہ درخواست جمع کروادی۔

الیکشن کمیشن میں مریم نواز کی تعیناتی کے خلاف درخواست پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی فرخ حبیب، ملیکا علی بخاری، کنول شوذب اور جویریہ ظفر کی جانب سے جمع کروائی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مریم نواز کی بطور نائب صدر تقرر کے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے فیصلے کو آئین و قانون سے متصادم قرار دیا گیا ہے۔

درخواست میں ان تمام قانونی بنیادوں کو شامل کیا گیا جن کے تحت مریم نواز کسی بھی سیاسی و عوامی عہدے کے لیے نااہل ہیں اور اس میں عدالت کے فیصلوں کا تفصیلی ذکر بھی موجود ہے۔

الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی درخواست میں کہا گیا کہ احتساب عدالت نے رہنما (ن) لیگ کو عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) کا نائب صدر بنانا غیر قانونی ہے، حکومت

درخواست میں مزید کہا گیا کہ پارٹی عہدہ نجی حیثیت کا حامل نہیں ہوتا، سیاسی جماعتوں کا پورے سیاسی نظام پر اثررسوخ ہوتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا کہ پارٹی صدر کی عدم موجودگی میں مریم نواز قائم مقام صدر کے اختیارات استعمال کریں گی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ نوازشریف کو بھی پارٹی عہدے کے لیے نااہل قرار دے چکی ہے، اس طرح مریم نواز کو عہدہ رکھنے کی اجازت دینا نوازشریف کو اجازت دینے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نو، شاہد خاقان سینئر نائب صدر،مریم نواز نائب صدر مقرر

درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن مریم نواز کی بطور پارٹی نائب صدر تعیناتی کالعدم قرار دے۔

الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کرنے کے بعد پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی فرخ حبیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں قیادت کا فقدان ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) والے چاہتے ہیں پاکستان میں رائے ونڈ کا قانون نافذ کیا جائے۔

فرخ حبیب نے کہا کہ پاناما رانی نائب صدر کا عہدہ نہیں رکھ سکتیں، زبردستی کی ٹیسٹ ٹیوب لیڈرشپ نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ہر موقع پر شریف خاندان کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مریم نواز کی بطور پارٹی نائب صدر تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

3 مئی کو پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف نے قائد نواز شریف سے منظوری کے بعد پارٹی کے مرکزی عہدیداروں کے ناموں کا اعلان کیا تھا جس کے بعد شاہد خاقان عباسی پارٹی کے سینئر نائب صدر جبکہ احسن اقبال سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) نے 16 نائب صدور کا ناموں کا اعلان بھی کیا تھا جن میں مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز شریف بھی شامل تھے۔

یاد رہے کہ 6 جولائی 2018 کو شریف خاندان کے خلاف نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد) اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ (30 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

اس کے علاوہ احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے لندن میں قائم ایون پراپرٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

بعد ازاں ستمبر 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔