فلسطینی آخر جائیں تو جائیں کہاں؟

11 مئ 2019

ای میل

اسرائیل کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک فلسطینیوں کی جاری بے دخلی کا المیہ دنیا کے سامنے رہا ہے۔ 1948ء اور 1967ء کی 2 بڑی لہروں نے فلسطینیوں کو اپنی ہی زمین سے جبری طور پر بے دخل کردیا اور پڑوسی ملکوں کے اندر فلسطینی بڑی تعداد میں پناہ گزین بن گئے۔

جنگوں اور پھر غیر قانونی رہائشی علاقوں کی تعمیر کے ذریعے عرب زمینوں پر قبضے کرکے اسرائیل نے فلسطینی زمین پر اپنا جابرانہ اثر وسیع کیا تو دیگر ملکوں میں بکھرے ہوئے ان فلسطینیوں کا اپنی آبائی سرزمین پر لوٹنے کا خواب حقیقت سے دُور ہوتا چلا گیا۔ یاد رہے کہ اسرائیلی قبضے کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔

مزید پڑھیے: سی این این نے فلسطین کی حمایت پر تبصرہ نگار کو برطرف کردیا

اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونرا) کے ساتھ رجسٹرڈ شدہ فلسطینی پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد 53 لاکھ بنتی ہے۔ 20 لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کی میزبانی اردن کرتا ہے، اور غزہ پٹی سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ دیگر فلسطینیوں کو پاسپورٹ اور شہریت کی فراہمی کے معاملے میں اردن کافی فلسطین دوست پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔ شام دیگر 5 لاکھ 26 ہزار پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا آ رہا ہے، جہاں انہیں شہریت کو چھوڑ کر مقامی آبادی کے تمام حقوق حاصل ہیں۔ اونرا غزہ اور ویسٹ بینک میں کیمپس چلاتی ہے۔ مصر اور عراق بھی ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا ہے۔

لبنان جیسے چھوٹے ملک نے اپنی مقامی آبادی کے اعتبار سے زیادہ پناہ گزینوں کو ٹھہرایا ہوا ہے۔ خطے میں یہی وہ جگہ ہے جہاں فلسطینی پناہ گزینوں کی حالتِ زار بدترین ہے۔ 1948ء سے لے کر اب تک شہریت کی سہولت حاصل نہ ہونے کے باعث بڑی تعداد میں فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں بدتر حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور رہے ہیں۔ ان کیمپوں میں نامور (یا بدنام کہیے) سابرا اور شاتیلا رہے ہیں جہاں خانہ جنگی کے دوران اسرائیل کی خفیہ مدد کے ساتھ فالانج ملیشیا کے ہاتھوں کی فلسطینیوں کا گھناؤنا قتلِ عام کیا گیا۔

جہاں پناہ گزینوں کی پہلی نسل آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے وہیں دوسری نسل خود کو تاریک مستقبل کے ساتھ کیمپوں پر محیط زندگی تک محدود پاتی ہے۔ فلسطینی پناہ گزین وہ حقوق نہیں رکھتے ہیں جو دیگر غیر ملکیوں کو حاصل ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: اسرائیل کا فلسطین کی ٹیکس کی مدمیں واجب الادا رقم روکنے کا فیصلہ

لبنان میں 20 سے زائد پیشہ ورانہ کام ایسے ہیں جن میں فلسطینی پناہ گزینوں کا داخلہ ممنوع ہے اور انہیں ملکیت خریدنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ حتیٰ کہ یہ لوگ کیمپوں کے عارضی ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ امریکن یونیورسٹی آف بیروت کی ایک رپورٹ میں یہ پایا گیا کہ محض 36 فیصد فلسطینی آبادی برسرِ روزگار ہے اور صرف 6 فیصد فلسطینی نوجوان یونیورسٹی ٹریننگ اسکیموں کا حصہ ہیں۔

اگرچہ لبنان میں اونرا سے رجسٹرڈ شدہ پناہ گزینوں کی کل تعداد 5 لاکھ کے لگ بھگ ہے مگر مختلف تخمینوں کے مطابق اس تعداد کو کم دکھایا جاتا ہے، یعنی 2 سے 3 لاکھ کے درمیان۔ دوسری طرف یہ مانا جاتا ہے کہ 3 سے 5 ہزار فلسطینی پناہ گزین کسی قسم کی شناختی دستاویزات نہیں رکھتے۔ یہ گروہ پوری طرح سے غیر سرکاری تنظیموں کے عطیات پر منحصر ہے۔ شام سے تعلق رکھنے والے 30 ہزار کے قریب ایسے بھی فلسطینی پناہ گزین ہیں جو خانہ جنگی کے باعث نقل مکانی کرچکے ہیں۔

لبنانی و فلسطینی مذاکراتی کمیٹی نے لبنان میں واقع مہاجر کیمپوں سے فلسطینیوں کی ہجرت کے رجحان میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔ کیمپوں میں موجود فلسطینی اپنے حالاتِ زندگی کو لے کر اس قدر ذہنی دباؤ میں مبتلا ہیں کہ وہ اب نہ صرف ایتھوپیا بلکہ برازیل، بولیویا اور یوراگوئے جیسے دُور دراز واقع ملکوں کا رخ کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

حالیہ برسوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے اونرا کی امداد بند کیے جانے کے باعث فلسطینیوں کی حالتِ زار مزید بگڑ گئی ہے۔ اس فیصلے نے اونرا کی جانب سے فراہم کی جانے والی پہلے سے ہی ناکافی سماجی سروسز پر زبردست بوجھ ڈال دیا ہے۔ امداد روکے جانے سے صحت اور تعلیم جیسی اہم سروسز شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ فنڈنگ کی کمی کو خلیجی و دیگر ممالک کی جانب سے کی جانے والی امداد سے پورا کیا جارہا ہے، لیکن وہ شاید ہمیشہ جاری نہ رہے۔ یہ صورتحال فلسطینی پناہ گزینوں کو کسی دوسری جگہ بہتر زندگی کی تلاش میں نکلنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

ان خستہ حال کیمپوں میں موجود لوگ اب بھی اپنے وطن لوٹنے کے خواب دیکھتے ہیں، لیکن یہاں سے فلسطینی آبادی کے چلے جانے سے پناہ گزینوں کی گنتی میں کمی واقع ہوسکتی ہے، اور یہ کمی ان کے اپنے وطن لوٹنے کے حق پر اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ کم ہوتی مہاجر آبادی کے ساتھ ملک بدر فلسطینیوں کے لوٹنے کا معاملہ اپنی اہمیت کھوسکتا ہے۔

مزید پڑھیے: غزہ میں جنگ بندی، 3 روز میں 23 فلسطینی جاں بحق

اقوامِ متحدہ فلسطینی پناہ گزینوں کے اپنے وطن لوٹنے کے حق کی حمایت کرتا ہے جو عرب اسرائیل مذاکرات کا مرکزی نکتہ بھی رہا ہے۔ لیکن جتنے زیادہ فلسطینی کیمپوں کی زندگی ترک کرتے جائیں گے اتنا ہی زیادہ ان کا وطن واپس لوٹنے کا خواب تعبیر سے دُور ہوسکتا ہے۔ تاہم وطن واپسی اور جبری بے دخلی کی سیاست سے ہٹ کر پڑوسی ملکوں میں واقع کیمپوں کے اندر فلسطینی پناہ گزینوں کا المیہ جاری و ساری ہے جہاں فلسطینیوں کی کئی نسلیں تاریک راہوں میں پھنسی ہوئی ہیں۔

مسئلہ فلسطین پر بڑی حد تک کی جانے والی سیاست سے فنڈنگ میں کٹوتی اور اس کے ساتھ ساتھ پناہ گزینوں کے انسانی اور شہریت کے بڑھتے مسائل کے باعث پیدا ہونے والی مفلسی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔


یہ مضمون 9 مئی 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔