جعلی شادیوں کا معاملہ: چینی باشندے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

ای میل

ایف آئی اے کے مطابق پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیاں کرکے ان سے چین میں جسم فروشی کا دھندہ کروایا جاتا تھا — فائل فوٹو/ اے ایف پی
ایف آئی اے کے مطابق پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیاں کرکے ان سے چین میں جسم فروشی کا دھندہ کروایا جاتا تھا — فائل فوٹو/ اے ایف پی

لاہور کی مقامی عدالت نے پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیاں کر کے ان کا جنسی استحصال کرنیوالے چینی باشندوں کے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے جوڈیشل مجسٹریٹ عامر رضا کے روبرو 11 چینی ملزمان کو پیش کیا اور اس موقع پر ملزمان کے لیے ترجمان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

ایف آئی اے نے جن ملزمان کو عدالت میں پیش کیا ان میں ہونگفا یان، لبنگ لیو، شونجیا لیو، لبنگ لیو، بو وانگ، جونگزی ہی، فینگ زینو یان، زینگ گینگ، شین ہونگ لی اور زوا زنگرین شامل تھے۔

مزید پڑھیں: چینی شہریوں سے ’شادی‘ کرنے والی 2 بہنوں کو آخری لمحات میں بچا لیا گیا

دوران سماعت ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے مزید انکشاف اور برآمدگی کی توقع نہیں اور ساتھ ہی استدعا کی کہ ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا جائے۔

ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ چینی باشندے پاکستانی ایجنٹس کے ساتھ مل کر پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرتے تھے اور پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیاں کرکے ان سے چین میں جسم فروشی کا دھندہ کروایا جاتا ہے۔

بعدازاں عدالت نے ایف آئی اے کو 27 مئی کو ملزمان کے خلاف چالان پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کو 14 روزی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’دلہنوں کی چین اسمگلنگ’، ایف آئی اے کا سندھ میں کارروائی کا آغاز

واضح رہے کہ پنجاب میں ایف آئی اے نے اب تک 39 افراد کو گرفتار کیا ہے، جس میں زیادہ تر چینی باشندے ہیں جبکہ پاکستانی لڑکیوں کو چین اسمگل کرکے مبینہ طور پر جسم فروشی کروانے اور ان کے اعضا فروخت کرنے کے لیے جعلی شادیوں سے متعلق کیس میں 6 لڑکیوں کو بھی بازیاب کروایا گیا۔

یہ گرفتاریاں اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں کی گئیں، جہاں ایف آئی اے نے چینی گینگ کے مقامی سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا، یہ گرفتاریاں ہیومن رائٹس واچ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کی چین اسمگلنگ کی حالیہ رپورٹس پر پاکستان کو پریشان ہونا چاہیے۔