امریکا کے ساتھ تجارتی تنازع پر کمپنیز چین کے ردعمل کی منتظر

13 مئ 2019

ای میل

حکام چین کی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک
حکام چین کی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین کی اقتصادی بحالی کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی اور تجارت پر کشیدگی میں اضافے کی دھمکی کے بعد کمپنیاں یہ دیکھنے کی منتظر ہیں کہ چین کس طرح اس کا جواب دے گا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعہ کو 200 ارب ڈالر کی چینی درآمدات پر ٹیرف میں اضافے پر ریگولیٹرز نے ’ضروری جوابی اقدام‘ کی دھمکی دی ہے لیکن 3 روز گزرنے کے باوجود بیجنگ کی جانب سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا کہ وہ کیا کرسکتا ہے۔

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی عدم توازن کے باعث بیجنگ جرمانے سے پہلو تہی اختیار کرنے کے لیے درآمدات سے بھاگ رہا ہے، تاہم ریگولیٹرز کی جانب سے چین میں امریکی کمپنیوں کو ہدف بتاتے ہوئے شپمنٹس کے لیے کسٹم کلیئرنس اور کاروباری لائسنس کی اجرا کو سست کرنا شروع کردیا ہے

مزید پڑھیں: ‘چین، امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات سے قبل شرائط کا قائل نہیں‘

ادھر ایک صنعتی گروپ امریکا-چین بزنس کونسل کے نائب صدر جیک پارکر کا کہنا تھا کہ کوئی اگلا قدم اٹھانے سے قبل حکام چین کی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکام اس بات کے لیے فکر مند ہوسکتے ہیں کہ ’جارحانہ جوابی کارروائیوں‘ کے نتیجے میں کمپنیز اپنے آپریشنز کو چین سے باہر منتقل کرسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ واشنگٹن کی جانب سے بیجنگ پر پہلے کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا گیا، جس کے بعد جمعہ کو ہونے والے حالیہ مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگئے۔

چین کے چیف سفیر، نائب وزیر اعظم لیو ہی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ بقایا معاملات اصولوں کے ساتھ کرنا پڑے تھے اور ’ہم اصولوں کے معاملے پر کوئی رعایت نہیں کریں گے‘۔

غیر ملکی دباؤ کو تسلیم نہیں کریں گے، چین

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے بڑھتے تجارتی تنازع میں تمام چینی درآمدات پر ٹیرف نافذ کرنے کے لیے خطرے کی تجدید کے بعد چین کبھی بھی غیر ملکی دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے بریفنگ کے دوران 200 ارب ڈالر مالیت کی چینی مصنوعات پر امریکی ٹیرف میں اضافے کے جواب میں چین کی جوابی کارروائی کے مںصوبے پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

تجارتی جنگ کے اثرات

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکنالوجی کے حوالے سے چین کی چوری یا کمپنیوں پر دباؤ کی شکایات پر گزشتہ برس ٹیرف میں اضافہ شروع کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا چین تجارتی جنگ، ‘بیجنگ میں مذاکرات کا پہلا دور مثبت رہا‘

واشنگٹن چاہتا ہے کہ بیجنگ روبوٹکس اور دیگر ٹیکنالوجی میں چین کے عالمی حریفوں کی حکومتی قیادت میں تشکیل کے لیے منصوبوں کو رول بیک کرے کیونکہ اس کے تجارتی شراکت دار کہتے ہیں کہ یہ آزادانہ تجارتی معاہدوں کے خلاف ہے۔

علاوہ ازیں پیر کو چین کی اسٹاک مارکیٹ میں ایک فیصد کمی دیکھنے میں آئی جبکہ ٹوکیو کا مرکزی انڈیکس 0.6 فیصد کم ہوگا، اسی طرح جنوبی کوریا اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی مارکیٹس میں مندی کا رجحان رہا۔

امریکا کی جانب سے جمعہ کو بڑھائے گئے ٹیرف سے 200 ارب ڈالر کی چینی مصنوعات پر ڈیوٹیز 10 فیصد سے 25 فیصد ہوگئی جبکہ اس کے علاوہ 50 ارب ڈالر کی دیگر چینی مصنوعات کے درآمد کنندگان پہلے ہیں 25 فیصد ادائیگی کر رہے ہیں۔