اگر تجارتی معاہدہ نہیں ہوا تو چین کو ‘بدترین نقصان’ہوگا، ٹرمپ

13 مئ 2019

ای میل

ٹرمپ کے مطابق امریکی صارفین کو ٹیرف میں اضافے سے فرق نہیں پڑے گا—فوٹو:اے پی
ٹرمپ کے مطابق امریکی صارفین کو ٹیرف میں اضافے سے فرق نہیں پڑے گا—فوٹو:اے پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ اور اپنے دیگر ‘چینی دوستوں’کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ تجارتی معاہدے پر اتفاق نہیں کرتے تو ان کے ملک کو ‘بدترین نقصان ہوگا’۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پانے میں ناکامی کے فوری بعد سماجی رابطے کی وایب سائٹ ٹویٹر میں اپنے بیان میں چین کو دھمکی دے دی۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ‘صدر شی جن پنگ اور چین میں موجود اپنے دوستوں کو کھلم کھلا کہہ رہا ہوں کہ اگر آپ نے معاہدہ نہیں کیا تو تو چین کو بڑا نقصان ہوگا کیونکہ کمپنیاں چین کو چھوڑ کر دوسرے ممالک جانے کے لیے مجبور ہوں گی’۔

مزید پڑھیں:امریکا کے ساتھ تجارتی تنازع پر کمپنیز چین کے ردعمل کی منتظر

ٹرمپ نے چین کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ‘آپ کے پاس اچھا معاہدہ تھا جو تقریباً مکمل ہوا تھا لیکن آپ پیچھے ہٹ گئے’۔

خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے چینی درآمدات پر 200 ارب ڈالر کا ٹیرف بڑھا چکی ہے جس کا جواز یہ دیا گیا ہے کہ چین رواں ماہ کے اوائل میں کیے گئے وعدوں سے انحراف کرچکا ہے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ چینی اشیا پر ٹیرف کے اضافے سے امریکی صارفین پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکی صارفین کو ٹیرف کی ادائیگی کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے’۔

وائٹ ہاؤس کے معاشی مشیر لیری کدلو کا خیال ہے کہ امریکی صارفین اور کاروباری افراد کو ٹیرف دینا پڑے گا اور دونوں فریقین ادا کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں:‘چین، امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات سے قبل شرائط کا قائل نہیں‘

دوسری جانب کمپنیوں کو ٹرمپ کے اعلان کے بعد چینی ردعمل کا انتظار ہے۔

ایک صنعتی گروپ امریکا-چین بزنس کونسل کے نائب صدر جیک پارکر کا کہنا تھا کہ کوئی اگلا قدم اٹھانے سے قبل حکام چین کی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکام اس بات کے لیے فکر مند ہوسکتے ہیں کہ ’جارحانہ جوابی کارروائیوں‘ کے نتیجے میں کمپنیز اپنے آپریشنز کو چین سے باہر منتقل کرسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ واشنگٹن کی جانب سے بیجنگ پر پہلے کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا گیا، جس کے بعد جمعہ کو ہونے والے حالیہ مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگئے۔

چین کے چیف سفیر، نائب وزیر اعظم لیو ہی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ بقایا معاملات اصولوں کے ساتھ کرنا پڑے تھے اور ’ہم اصولوں کے معاملے پر کوئی رعایت نہیں کریں گے‘۔