چین کا اضافی ٹیرف کا اعلان، امریکی اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار

اپ ڈیٹ 13 مئ 2019

ای میل

ٹرمپ انتظامیہ چین سے درآمد ہونے والی اشیا پر 250 ارب ڈالر کے ٹیرف عائد کر چکی ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی
ٹرمپ انتظامیہ چین سے درآمد ہونے والی اشیا پر 250 ارب ڈالر کے ٹیرف عائد کر چکی ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی

چین کی جانب سے امریکی اشیا کے ٹیرف میں اضافے کے بعد وال اسٹریٹ میں شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور نیس ڈیک میں 3 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔

تجارتی دن کے آغاز کے ایک گھنٹے کے دوران ہی ڈاؤ جونز انڈسٹریل میں 530 پوائنٹس (2 فیصد) کی کمی سامنے آئی جس کے بعد انڈیکس 25 ہزار 412 پوائنٹس پر آگیا۔

ایس اینڈ پی 500 میں 2.1 فیصد کمی آئی جو 2 ہزار 821 پوائنٹس جبکہ بیشتر ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل نیس ڈیک کمپوزٹ انڈیکس 2.7 فیصد کمی کے بعد 77 ہزار 22 پوائنٹس پر آگیا۔

واضح رہے کہ امریکا کے ردعمل میں بیجنگ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ وہ یکم جون سے امریکی اشیا پر ٹیرف میں 60 ارب ڈالر اضافہ کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: اگر تجارتی معاہدہ نہیں ہوا تو چین کو ‘بدترین نقصان’ہوگا، ٹرمپ

ٹرمپ انتظامیہ چین سے درآمد ہونے والی اشیا پر 250 ارب ڈالر کے ٹیرف عائد کر چکی ہے، ساتھ ہی اس نے کہا تھا کہ وہ تقریباً تمام چینی درآمدات پر سزا کے طور پر ڈیوٹیاں عائد کرنے کے عمل کا بھی آغاز کر رہی ہے کیونکہ چین نے رواں ماہ کے اوائل میں کیے گئے وعدوں سے انحراف کیا۔

بیجنگ کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق 5 ہزار 140 امریکی اشیا پر یکم جون سے 5 فیصد، 10 فیصد، 20 فیصد اور 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

5 فیصد اور 10 فیصد اضافے کا اعلان ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی ٹیرف میں اضافے کا ردعمل دینے کے حوالے سے چین کو خبردار کرنے کے چند گھنٹوں بعد ہی سامنے آگیا۔

وزارت کا کہنا تھا کہ اضافی 25 فیصد ٹیرف 2 ہزار 493 اشیا جن میں لیکوئیفائڈ نیچرل گیس (ایل این جی)، سویا آئل، پینٹ آئل، پیٹروکیمیکلز، فروزن سبزیاں اور کاسمیٹکس کی اشیا شامل ہیں، پر عائد کیا گیا جبکہ دیگر 20 فیصد 1 ہزار 78 اشیا پر عائد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کے ساتھ تجارتی تنازع پر کمپنیز چین کے ردعمل کی منتظر

وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ ’چین کا ردعمل امریکا کے اقدام کے پیش نظر آیا تاہم چین کو امید ہے کہ امریکا باہمی تجارت اور معاشی مشاورت کے سیدھے راستے پر آکر چین سے بات کرے گا‘۔

اسٹاک مارکیٹ میں 3.4 فیصد تک حصص میں کمی کا سامنا کرنے والی امریکی کمپنی بوئنگ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید ہے کہ امریکا اور چین تجارتی مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرتے ہوئے معاہدہ کریں گے جس سے چین اور امریکا دونوں کو فائدہ ہوگا‘۔

دیگر امریکی کمپنیاں جنہوں نے نقصان اٹھایا ان میں ایپل، جس کے حصص 5.3 فیصد، کیٹر پلر جس کے حصص 4.3 فیصد، ڈیر اینڈ کمپنی جس کے حصص 5.2 فیصد، جنرل موٹرز جس کے حصص 3.2 فیصد اور اسٹار بکس جس کے حصص 2.2 فیصد تک کم ہوئے، شامل ہیں۔