ایک پاکستانی کمپنی سمیت 12 افراد و ادارے، امریکی پابندی فہرست میں شامل

اپ ڈیٹ 14 مئ 2019

ای میل

پابندی کا شکار پاکستان کمپنی کا نام اور مقام کی معلومات نہیں دی گئیں — تصویر بشکریہ امریکی محکمہ کامرس ٹوئٹر
پابندی کا شکار پاکستان کمپنی کا نام اور مقام کی معلومات نہیں دی گئیں — تصویر بشکریہ امریکی محکمہ کامرس ٹوئٹر

واشنگٹن نے ایک پاکستانی کمپنی اور 12 غیر ملکی افراد و اداروں کو امریکا کی پابندی فہرست میں شامل کرلیا جس میں انہیں محدود آئٹم کی مبینہ تجارت کے لیے مخصوص لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے۔

امریکی محکمہ کامرس کے بیان کے مطابق اس طرح کی پابندیوں کا مقصد ’اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حساس ٹیکنالوجی ان کے ہاتھ نہ لگے جو امریکی سلامتی یا امریکی شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ پابندی کا شکار پاکستان کمپنی کا نام اور مقام کی معلومات نہیں دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ‘جوہری تجارت‘ میں ملوث 7 پاکستانی کمپنیوں پر پابندی لگادی

بیان کے مطابق فہرست میں درج مجموعی کمپنیوں میں سے 4 کا تعلق چین اور ہانگ کانگ، مزید 2 چینی اور ایک پاکستانی کمپنی جبکہ 5 اماراتی افراد بھی شامل ہیں۔

محکمہ کامرس کے بیورو برائے انڈسٹری اور سیکیورٹی (بی آئی ایس) کا کہنا تھا کہ فہرست میں درج غیر ملکی پارٹیز کو برآمدات اور دوبارہ برآمدات یا ملک میں محدود اشیا کی منتقلی کے لیے مخصوص لائسنس کی ضرورت ہوگی۔

امریکی بیان کے مطابق اس فہرست میں پاکستانی کمپنی کی شمولیت مبینہ طور پر ’ملک کی غیر محفوظ جوہری سرگرمیوں کی لیے کنٹرولڈ ٹیکنالوجی کے حصول‘ پر کی وجہ سے گئی۔

مزید پڑھیں: ‘پاکستانی کمپنیوں پر امریکی پابندی کے حوالے سے سیاست چمکانا ٹھیک نہیں‘

بیان میں ان کمپنیوں کے ناموں کا تذکرہ نہیں کیا گیا جو فہرست میں درج کی گئیں لیکن جو ادارہ یا فرد ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا انہیں مجرمانہ سزاؤں اور انتظامی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

اس سلسلے میں امریکی سیکریٹری کامرس ولبر روز کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت ہر اس اقدام سے سختی سے نمٹے گی جو امریکی شہریوں یا ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے دنیا بھر میں افراد، کاروبار اور تنظیموں کو نوٹس دیے گئے ہیں، جس کے مطابق ایران کی مبینہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) سے منسلک سرگرمیوں اور دیگر غیر قانونی اسکیموں کی معاونت کرنے پر ان کا احتساب کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہواوے کامصنوعات پر پابندی کے خلاف امریکی حکومت پر مقدمہ

اس کے علاوہ 4 اماراتی افراد کو بغیر لائسنس کے ایک غیر تسلیم شدہ ادارے ماہان ایئر اور ایک ایسے ادارے کے لیے امریکا سے تعلق رکھنے والی اشیا حاصل کرنے پر شامل کیا گیا، جو پہلے ہی اس فہرست کا حصہ تھا۔

دوسری جانب ایک ایسے شخص کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا کہ جس نے بیورو برائے انڈسٹری اور سیکیورٹی کی نگرانی کی حمایت کرنے سے انکار کیا تھا۔


یہ خبر 14 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔