حالیہ پُرتشدد واقعات میں ایک مسلمان جاں بحق ہوا، سری لنکن وزیر

اپ ڈیٹ 14 مئ 2019

ای میل

رپورٹ کے مطابق پولیس نے کشیدگی کے باعث علاقے میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی
رپورٹ کے مطابق پولیس نے کشیدگی کے باعث علاقے میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

سری لنکا کی کابینہ کے مسلمان وزیر کا کہنا ہے کہ ایسٹر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال کے باعث مساجد اور دکانوں پر ہونے والے حالیہ حملوں میں ایک مسلمان جاں بحق ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا کی کابینہ کے وزیر اور سری لنکن مسلم کانگریس کے رہنما رؤف حکیم نے بتایا کہ گزشتہ روز سری لنکا کے شمال مغربی حصے میں مشتعل ہجوم کی جانب سے مسلمانوں کی املاک، دکانوں اور مکانوں، پر کیے جانے والے حملوں میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔

پولیس نے کشیدگی کے باعث علاقے میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے، اس کے علاوہ ملک کے مغربی حصے میں بھی پُر تشدد واقعات کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب سری لنکن پولیس نے مسلمانوں اور ان کی املاک پر حملوں میں ملوث 23 افراد کو گرفتار کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق پولیس نے کہا کہ اس نے ملک بھر سے مسلمانوں پر حملوں کے لیے اکسانے والے 23 افراد کو گرفتار کیا۔

پولیس ترجمان رُووان گوناسیکرا کا کہنا تھا کہ حالات قابو میں ہیں اور مسلمانوں اور ان کی املاک پر حملے کا کوئی نیا واقعہ سامنے نہیں آیا۔

مزید پڑھیں: سری لنکا میں مسجد پر حملہ، دوبارہ کرفیو نافذ

خیال رہے کہ ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں 3 مسیحی عبادت گاہوں اور 3 ہوٹلز پر ہونے والے خودکش دھماکوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد سوشل میڈیا پر مسلمانوں کو نفرت کا نشانہ بنایا جانے لگا۔

یاد رہے کہ مذکورہ حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی جبکہ حملے مبینہ طور پر مقامی افراد کی جانب سے کیے گئے تھے۔

بعد ازاں یہ بھی رپورٹس سامنے آئیں کہ گرجا گھروں اور ہوٹل پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے بھارت میں تربیت حاصل کی۔

گذشتہ روز پولیس ترجمان نے بتایا تھا کہ دارالحکومت کولمبو کے شمال سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع رہائشی علاقے چیلاؤ میں مشتعل ہجوم نے مسجد پر حملہ کیا اور مسلمانوں کے کاروباری مراکز کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

کیتھولک اکثریتی علاقے چیلاؤ میں کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک رہائشی نے غلط فہمی کے باعث فیس بک پوسٹ کو مسیحی افراد خلاف خطرہ سمجھ لیا۔

ترجمان نے بتایا تھا کہ علاقے میں کشیدگی کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکن صدر نے دفاعی سربراہان سے استعفیٰ طلب کرلیا

واضح رہے کہ بم دھماکوں کے بعد سے سری لنکا میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے اور طویل عرصے تک تحویل میں رکھنے کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

بدھ مت اکثریتی ملک سری لنکا کی 2 کروڑ 10 لاکھ آبادی کو 10 فیصد حصہ مسلمانوں پر اور 7.6 فیصد مسیحی افراد پر مشتمل ہے۔