خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

اپ ڈیٹ 14 مئ 2019

ای میل

لاہور ہائیکورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر 8 مئی کو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا — فائل فوٹو/ اے ایف پی
لاہور ہائیکورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر 8 مئی کو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا — فائل فوٹو/ اے ایف پی

لاہور ہائیکورٹ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ خادم حسین رضوی اور سابق رہنما پیر افضل قادری کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم علی خان اور جسٹس اسجد جاوید پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے ٹی ایل پی کے رہنماؤں کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔

عدالت عالیہ نے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو ضمانت کے عوض 5، 5 لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیں: خادم حسین رضوی، پیر افضل قادری کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

لاہور ہائیکورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر 8 مئی کو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

یاد رہے کہ ضمانت سے متعلق درخواستوں کی آخری سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے پولیس کو خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے خلاف ثبوت پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

پیر افضل قادری کا استعفیٰ

یاد رہے کہ یکم مئی کو تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے بانی پیر افضل قادری نے صحت کی خرابی کے باعث پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ٹی ایل پی کی جانب سے 25 نومبر 2018 کو بطور یوم شہدا منانے کے اعلان کے بعد حکومت نے پیر افضل قادری کو نومبر میں ہی دہشت گردی اور بغاوت کے الزامات کے تحت 'حفاظتی تحویل' میں لے لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’خادم حسین ضمانت دیں، رہائی کے بعد امن و امان میں خلل نہیں ڈالیں گے‘

خیال رہے کہ ڈان نیوز کو پیر افضل قادری کے استفعے سے متعلق بیان کی ویڈیو موصول ہوئی تھی، اس کے ساتھ منسلک ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ ٹی ایل پی کے بانی نے حکومت، عدلیہ اور آرمی چیف کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معذرت کی ہے۔

اپنے بیان میں پیر افضل قادری کا کہنا تھا کہ 'میں دل، گردے، ہائی بلڈ پریشر اور شوگر جیسے امراض میں مبتلا ہوں اور جس وقت آسیہ بی بی کے کیس کا فیصلہ سنایا گیا تو اس سے میرے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی اور جس پر میں نے ایک تقریر کی، میں حکومت، عدلیہ اور آرمی چیف کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معذرت کرتا ہوں'۔

تحریک لبیک کے رہنماؤں کی گرفتاری

واضح رہے کہ گزشتہ سال توہین مذہب کے مقدمے میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پُر تشدد مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پیر افضل قادری نے تحریک لبیک کو خیرباد کہہ دیا

جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا، اس دوران خادم حسین رضوی کو 23 نومبر 2018 کو 30 روزہ حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے رواں سال جنوری میں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔