شمالی کوریا کا امریکا کے قبضے میں موجود کارگو جہاز کی واپسی کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 14 مئ 2019

ای میل

شمالی کوریا نے اس عمل کو ڈکیتی قرار دے دیا—فائل فوٹو: اے ایف پی
شمالی کوریا نے اس عمل کو ڈکیتی قرار دے دیا—فائل فوٹو: اے ایف پی

شمالی کوریا نے امریکا کی جانب سے اس کے مال بردار (کارگو) جہاز کو ممنوع کوئلے کی برآمدات میں ملوث ہونے پر قبضے میں لینے کو ’ڈکیتی‘ قراد دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور شمالی کوریا کا جہاز واپس کرے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے وزارت خارجہ کے نامعلوم ترجمان کا بیان جاری کیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ امریکا گزشتہ برس جون میں شمالی کورین لیڈر کم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سمٹ معاہدے کی روح کو دھوکا دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت اتفاق کرتے ہوئے ایک جوہری ہتھیاروں سے پاک کورین جزیرہ اور دوطرفہ تعلقات سے متعلق ایک مبہم بیان دیا تھا لیکن دوسری ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان پابندیوں میں ریلیف سے متعلق بے بنیاد مطالبات اور تخفیف اسلحہ پر اختلاف سامنے آیا تھا۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا کا جہاز امریکی تحویل میں، عملے کے 24 ارکان زیرحراست

تاہم کارگو جہاز کے قبضہ جس کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا، ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا، شمالی کوریا تعقلقات نازک دور پر ہیں، شمالی کوریا کی جانب سے ہتھیاروں کے ٹیسٹ دوبارہ شروع کردیے گئے ہیں جو لگتا ہے کہ امریکا کو پابندیوں میں نرمی کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ہیں۔

کے سی این اے کے بیان میں کہا گیا کہ ’ امریکا نے ہمارے تجارتی جہاز کی ڈکیتی کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو وجوہات میں سے ایک کے طور پر بیان کیا ہے جبکہ یہ ہماری خود مختاری کے خلاف ہے اور ہم انہیں مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کا ایک ہفتے میں دوسرا میزائل تجربہ

بیان میں کہا گیا کہ ’امریکا کو احتیاط سے غور کرنا چاہیے کہ اس کی دن کی روشنی کی ڈکیتی سیاسی صورتحال کے لیے کس طرح کے نتائج لاسکتی ہے، لہٰذا بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ہمارے جہاز کو واپس بھیجنا چاہیے‘۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکا کی جانب سے مال بردار جہاز کو قبضے میں لینے سے قبل یہ 177 میٹر (581 فٹ) کا وائس اونیسٹ نام کے جہاز کو اپریل 2018 میں پہلے انڈونیشیا نے اس وقت پکڑا تھا جب وہ بڑی تعداد میں کوئلہ لے کر جارہا تھا۔

خیال رہے کہ 2017 میں انتہائی طاقت ور ہتھیاروں کے تجربے کی سزا کے طور پر اقوام متحدہ کی پابندی کے تحت شمالی کوریا سے کوئلے کی برآمدات پر پابندی ہے جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ کوئلہ اور دیگر معدنیات کی برآمدات شمالی کوریا کی ہتھیاروں کی صنعت کی مالی مدد کرتی ہے۔