بلوچستان میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 3 مزدور جاں بحق

اپ ڈیٹ 14 مئ 2019

ای میل

مزدوروں کا تعلق صوبہ سندھ کے علاقے ٹنڈو آدم سے تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی
مزدوروں کا تعلق صوبہ سندھ کے علاقے ٹنڈو آدم سے تھا—فائل فوٹو: اے ایف پی

صوبہ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 3 مزدور جاں بحق ہوگئے۔

پولیس کے مطابق نصیرآباد کی تحصیل ٹمبو میں مسلح ملزمان نے اس وقت حملہ کیا جب مزدور فیکٹری میں کام کر رہے تھے۔

پولیس کا کہنا تھا متاثرہ مزدوروں میں 2 ہندو برادری سے تھے اور وہ صوبہ سندھ کے علاقے ٹنڈو آدم سے تعلق رکھتے تھے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 4 اہلکار شہید

واقعے کے بارے میں پولیس نے مزید بتایا کہ تمام متاثرین کو گولیوں سے متعدد زخم آئے اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، بعد ازاں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ضلع ہیڈکوارٹرز ہسپتال ڈیرہ مراد جمالی منتقل کردیا گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جبکہ ابتدائی طور پر یہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا لگتا ہے۔

علاوہ ازیں لاشوں کو کسی سرکاری گاڑی میں منتقل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا اور متاثرہ مزدوروں کی لاشوں کو ان کے آبائی علاقے ٹنڈو آدم بھیجنے کے لیے دیگر مزدور ایک دوسرے سے رقم جمع کرتے ہوئے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیں: چمن میں دھماکا، قبائلی رہنما 2 محافظوں سمیت جاں بحق

خیال رہے کہ گزشتہ چند دنوں سے بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اچانک اضافہ ہوا ہے اور ایک ہفتے کے دوران 3 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

تاہم بلوچستان میں نہتنے مزدوروں پر فائرنگ کا بھی یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں گزشتہ برس مئی کے مہینے میں ہی ضلع خاران میں نامعلوم مسلح شرپسندوں کی فائرنگ سے 6 مزدور ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا تھا۔

بعد ازاں اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بلوچستان کے ضلع خاران میں 6 مزدوروں کے قتل پر ازخود نوٹس لے لیا تھا۔