نشوا کی موت غلط انجکشن کے باعث ہوئی، میڈیکل بورڈ کی تصدیق

اپ ڈیٹ 15 مئ 2019

ای میل

نشوا کے جسم پر سی پی آر سے 
 کوئی زخم نہیں ہوا، رپورٹ —فائل فوٹو / ڈان نیوز
نشوا کے جسم پر سی پی آر سے کوئی زخم نہیں ہوا، رپورٹ —فائل فوٹو / ڈان نیوز

کراچی: نشوا ہلاکت کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیئے گئے تین رکنی میڈیکل بورڈ نے اپنی فرانزک رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ پوٹاشیم کلورائیڈ کا انجکشن نبض میں لگانے کی وجہ سے نشوا کے مختلف اعضا ناکارہ ہوئے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جسم کے مختلف اعضا ناکارہ ہونے کے باعث بچی کو دل کا دورہ پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: نشوا کیس: کل تک مطالبات پورے نہ ہوئے تو احتجاج کریں گے، والد قیصر علی

رپورٹ میں اس امر کی بھی تصدیق کی گئی کہ طویل دورانیے پر مشتمل سی پی آر (مصنوعی طریقہ بحالی تنفس) سے نشوا کے جسم پر کوئی زخم نہیں آئے۔

مذکورہ طبی بورڈ میں پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباسی، سینئر میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر سُمیہ سید اور فرانزک ایکسپرٹ پروفیسر فرحت مراز شامل تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق نشوا کو ڈِیپ کے بجائے نبض کے ذریعے پوٹاشیم کلورائیڈ کی زائد مقدار دی گئی، چند منٹ میں ہی نشوا کے ہونٹ نیلے ہوگئے اور اسے سانس لینے میں دشواری پیدا ہوئی۔

جس کے بعد نشوا کو تقریباً 45 منٹ تک سی پی آر دی گئی اور پھر وینٹی لیٹر پر رکھ دیا گیا، جہاں وہ 2 ہفتے بعد انتقال کر گئی۔

خیال رہے کہ نشوا کو پیٹ میں تکلیف کے باعث 7 اپریل کو کراچی کے دارالصحت ہسپتال لایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: غلط انجیکشن سے نشوا کے انتقال پر دارالصحت ہسپتال سیل

نشوا کی موت کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بچی کا فرانزک طبی معائنہ کرنے کے لیے تین رکنی بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔

واقعے کے بعد ہسپتال سیل کردیا گیا اور ہسپتال کے مالک عامر چشتی اور وائس چیئرمین سید علی فرحان کو انتظامیہ اور طبی عملے کے 6 مفرور اور 4 زیر حراست ملزمان کے ہمراہ نامزد کیا گیا۔

ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302، 322، 337 اور 34 کے تحت بچی کے والد قیصر علی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

8 مئی کو نشوا ہلاکت مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ نے نجی ہسپتال کے چیئرمین اور نائب چیئرمین کی عبوری ضمانت منظور کر لی تھی۔

دارالصحت ہسپتال کے چیئرمین عامر ولی الدین چشتی اور نائب چیئرمین سید علی فرحان 7 مئی کو سیشن کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد پولیس کو چکمہ دے کر فرار ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نشوا ہلاکت کیس: ضمانت منسوخ ہونے پر ملزمان عدالت سے فرار

درخواستیں مسترد ہونے کے بعد دونوں نے عبوری ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے بعد ہائی کورٹ کے جسٹس صلاح الدین پنھور پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے 5، 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض دونوں کی 10 روز کی ضمانت منظور کر لی تھی اور آئندہ سماعت کے لیے پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کر دیا تھا۔