کراچی: مشتبہ شخص کے ڈی این اے سے بچیوں کے ریپ میں ملوث ہونے کی تصدیق

اپ ڈیٹ 15 مئ 2019

ای میل

عدالت کی آئندہ سماعت پر وکیل صفائی کو پیش ہونے کی ہدایت — فائل فوٹو: اے ایف پی
عدالت کی آئندہ سماعت پر وکیل صفائی کو پیش ہونے کی ہدایت — فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت کو بتایا ہے کہ 4 بچیوں کے ریپ کے الزام میں گرفتار ملزم کے ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہوگئی ہے کہ ملزم جرم میں ملوث ہے۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مشتبہ شخص کو کراچی کے سخن پولیس تھانے کی حدود سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنانے کے لیے ایک بچی کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 10 کے جج نے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اسسٹنٹ پراسیکیوٹر جنرل غلام عباس دلوانی نے عدالت کو بتایا کہ 2 تفتیشی افسران کی جانب سے 5 ایک جیسے کیسز میں علیحدہ علیحدہ رپورٹس جمع کروائی گئی ہیں جو کم عمر لڑکیوں اور بچیوں سے کے ریپ سے متعلق ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی: سرجانی میں اغوا، ریپ کا نشانہ بننے والی 14 سالہ لڑکی بازیاب

ڈی ایس پی علی حسن شیخ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ملزم کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک بچی کو ریب کا نشانہ بنانے کے لیے اغوا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تاہم بچی کو ملزم نے ریپ کا نشانہ نہیں بنایا لیکن پولیس نے ملزم کے ڈی این اے کے نمونے لے کر لیبارٹری بھجوائے جو کراچی میں 2015 سے زیر تفتیش 4 ریپ کیسز سے میچ کر گئے۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل شواہد کی بنیاد پر ملزم کو سیمپل میچ ہونے والے کیسز میں نامزد بھی کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: ہسپتال میں جاں بحق ہونے والی لڑکی کا ریپ نہیں ہوا، پولیس

عدالت میں دلائل کے طور پر پراسیکیورٹر نے ڈی ایس پی خالد کی رپورٹ بھی پیش کی جو کراچی میں 2 بچیوں کے ساتھ ہونے والے ریپ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

مذکورہ رپورٹ میں تفتیشی افسر نے تجویز پیش کی کہ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔

تاہم عدالت نے دلائل سننے کے بعد بغیر کوئی فیصلہ جاری کیے کیس کی سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی جبکہ اس موقع پر وکیل صفائی کو پیش ہونے کا حکم دیا۔


یہ خبر 15 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی