امریکی پابندیوں پر ایران کا ردعمل اس کا قانونی حق ہے، روس

اپ ڈیٹ 15 مئ 2019

ای میل

گزشتہ روز مائیک پومپیو نے روس میں صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کی تھی — فوٹو: اے پی
گزشتہ روز مائیک پومپیو نے روس میں صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کی تھی — فوٹو: اے پی

خلیجی فارس اور مشرق وسطیٰ کے دیگر خطوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد کریملن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو حالیہ بحران پر کسی قسم کی یقین دہانی نہیں کروائی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مائیک پومپیو کی روس میں صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات ہوئی تھی جہاں انہوں نے حالیہ کشیدگی کی صورتحال پر بات چیت کی تھی، تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ امریکی اہداف پر کسی قسم کے حملے پر امریکا ردعمل دے گا۔

پیوٹن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور ایران کے 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے ردعمل کو قانونی قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا۔

مزید پڑھیں: ایران اتنا عظیم ہے کہ کسی سے خوفزدہ نہیں ہوسکتا، ایرانی صدر

واضح رہے کہ ایران نے یورپی ممالک کو نیا جوہری معاہدہ کرنے کے لیے 60 روز کی ڈیڈ لائن دی ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ بلند ترین سطح پر یورینیم کی افزودگی شروع کردے گا۔

امریکا کا عراق سے غیر ضروری سرکاری عملے کو فوری نکلنے کا حکم

دوسری جانب عراق میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے انہیں ایران سے حالیہ کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر تمام غیر ضروری اور غیر ہنگامی سرکاری عملے کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

سفارتخانے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب گزشتہ ہفتے واشنگٹن نے کہا تھا کہ اسے ایران اور اس کی پراکسی افواج کی جانب سے خطے میں امریکیوں اور امریکی مفاد کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران سے جنگ نہیں چاہتے لیکن دباؤ ڈالتے رہیں گے، امریکا

چند روز قبل سفارت خانے نے امریکیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ عراق کے سفر سے گریز کریں۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2015 کے ایران کے جوہری معاہدے کو ختم کرتے ہوئے تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردی تھیں۔