سوڈان: مظاہرین کا فوجی حکمران سے انتقال اقتدار کا معاہدہ طے پاگیا

اپ ڈیٹ 16 مئ 2019

ای میل

مظاہرین نے عمرالبشیر کی معزولی کے بعد بھی احتجاج جاری رکھا تھا — فوٹو:اے ایف پی
مظاہرین نے عمرالبشیر کی معزولی کے بعد بھی احتجاج جاری رکھا تھا — فوٹو:اے ایف پی

سوڈان میں عمرالبشیر کو صدارت سے ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے فوجی حکمرانوں نے اپوزیشن کے حمایت یافتہ مظاہرین سے 3 برسوں میں اقتدار مکمل طور پر سول انتظامیہ کے حوالے کرنے کے معاہدے پر اتفاق کر لیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات سول انتظامیہ کے حوالے کرنے اور فوجی حکمرانی کی توسیع پر اٹکے ہوئے تھے، تاہم اب دونوں فریقین اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ انتقال اقتدار 3 برس میں ہوگا۔

خیال رہے کہ سوڈانی فوج نے 4 ماہ کے عوامی احتجاج کے نتیجے میں 11 اپریل 2019 کو سابق صدر عمرالبشیر کی 30 سالہ طویل حکمرانی کو ختم کردیا تھا، لیکن اس کے باوجود عوامی احتجاج ختم نہ ہوا اور حکومت سول انتظامیہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ مزید مضبوط ہوگیا۔

معاہدے پر اتفاق کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ملٹری کونسل کے رکن لیفٹننٹ جنرل یاسر العطا نے کہا کہ دونوں فریقین تین سال میں انتقال اقتدار پر متفق ہوگئے ہیں اور اگلے 6 ماہ کی ترجیحات میں سب سے پہلے نمبر پر ملک میں موجود مختلف مسلح جنگجو گروپوں کو امن مذاکرات کے لیے تیار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں:سوڈان میں فوجی بغاوت، صدر عمر البشیر گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین 300 ارکان پر مشتمل کمیٹی پر متفق ہوگئے ہے جو سول انتظامیہ کے لیے انتقال اقتدار پر کام کرے گی، عبوری پارلیمنٹ میں دو تہائی نمائندگی مظاہرین کو دی جائے گی جبکہ دیگر حصہ ان جماعتوں کو دیا جائے گا جن کا عمر البشیر کی حکومت سے تعلق نہ رہا ہو۔

ملٹری کونسل کے رکن کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں اب یہ بات طے کرنا ہے کہ خودمختار کونسل بنا دی جائے اور امید ہے کہ ایک دو روز میں اس پر اتفاق ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’24 گھنٹوں کے اندر مکمل معاہدہ ہوجائے گا اور سوڈانی عوام پرامن انقلاب کے مقصد کے حصول کا جشن منائیں گے’۔

قبل ازیں مذاکرات کے دوران بھی احتجاج جاری تھا اور دو روز قبل تصادم کے دوران کم از کم 5 افراد مارے گئے تھے جن میں ایک فوجی افسر بھی شامل تھا جبکہ 200 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:سوڈان میں حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی کونسل کے سربراہ مستعفی

یہ تصادم اس وقت شروع ہوا تھا جب بظاہر سابق صدر عمرالبشیر کے ہمدرد سیکیورٹی فورسز کے چند اہلکاروں نے پرامن دھرنا کے اراکین پر دھاوا بول دیا تھا۔

مظاہرین کی جانب سے مذاکرات کرنے والے رکن مدنی عباس کا کہنا تھا کہ ملٹری کونسل اس حملے کی تفتیش کرے گی۔

خیال رہے کہ سابق صدر عمرالبشیر کو دور حکمرانی میں مظاہرین کو قتل کرنے کے جرم میں رواں ہفتے دارالحکومت خرطوم کی ایک جیل میں بھیج دیا گیا تھا۔