سابق صدر آصف زرداری نیب راولپنڈی میں پیش

ای میل

فاروق ایچ نائیک نے پی پی پی کے شریک چیئرمین پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کردیا — فائل فوٹو/ اے ایف پی
فاروق ایچ نائیک نے پی پی پی کے شریک چیئرمین پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کردیا — فائل فوٹو/ اے ایف پی

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی میں پیش ہوگئے۔

نیب راولپنڈی نے بد عنوانی سے متعلق متعدد کیسز اور جاری تحقیقات میں تفتیش کے لیے سابق صدر آصف زرداری کو طلب کررکھا تھا۔

آصف زرداری کی نیب میں پیشی کے موقع پر ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک، پی پی کے رہنما نیر بخاری، رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ اور دیگر رہنما بھی نیب آفس پہنچے۔

نیب میں آصف زرداری کی پیشی کے بعد ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی پی کے شریک چیئرمین پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کردیا۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے نیب کے سامنے بیانات قلمبند کرادیے

ان کا کہنا تھا کہ آج کے کیس میں آصف زرداری کو ملزم نہیں بنایا گیا، اس کے باوجود سابق صدر کو آج طلب کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پارک لین کیس میں بھی ایک نوٹس بھیجا گیا ہے، پارک لین میں آصف زرداری میں نہ ڈائریکٹر ہیں اور نہ ہی شیئر ہولڈر جبکہ پارک لین کے دیگر ڈائریکٹرز نے قرضہ لیا جس کا آصف زرداری کو کوئی علم نہیں۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کو سوال نامہ نہیں دیا گیا، الزام لگا کر کسی کو بدنام کرنا بہت آسان ہوتا ہے، ثابت کرنا مشکل اور ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ جتنے بھی الزامات لگ رہے ہیں ان میں سرخرو ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے خلاف تاحال ایک ہی ریفرنس دائر کیا گیا ہے جبکہ جعلی اکاونٹس کیس میں آصف زرداری کا کوئی کردار نہیں۔

فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کے خلاف جعلی اکاونٹس کیس کے علاوہ تاحال نیب کی جانب سے کوئی ریفرنس دائر ہی نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری کی نیب میں جاری 6 کرپشن کیسز میں عبوری ضمانت منظور

ان کا کہنا تھا کہ شگر ملز مالکان نے کس اکاؤنٹ سے پیسے دیئے اس سے آصف زرداری کا کوئی تعلق نہیں، آصف زرداری کے خلاف جعلی اکاونٹس کیس نہیں بنتا جبکہ بلاول بھٹو کا تو بلکل کوئی کردار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کو ان کیسز میں طلب کیا جا رہا ہے جن کیسز میں وہ ملزم نامزد ہی نہیں ہوئے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری بلکل معصوم ہیں، پارک لین سمیت دیگر مقدمات میں ان کا کوئی کردار نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت ان تمام کیسز سے سرخرو ہوگئی۔

اس سے قبل 25 مارچ 2019 کو سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) میں پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرادیے۔

اس سے قبل اسلام آباد میں ایک کمپنی پارک لین اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ کی جانب سے مبینہ طور پر زمین کی خریداری کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب نے گزشتہ سال 13دسمبر کو آصف علی زرداری اور بلاول دونوں کو راولپنڈی میں طلب کیا تھا البتہ صرف آصف علی زرداری عدالت میں پیش ہوئے تھے اور بلاول کی نمائندگی ان کے وکیل نے کی تھی۔

گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف جاری 6 کرپشن کے کیسز میں عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

کیس کا پس منظر

2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔

بعدازاں نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری آفتاب میمن، شبیر بمباٹ، حسن میمن اور جبار میمن کو گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ان ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔

اس سلسلے میں 20 مارچ کو آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے پارک لین اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرائے تھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی اور ساتھ ہی آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور و دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت خارج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔

احتساب عدالت کے رجسڑار نے بینکنگ کورٹ سے منتقل کئے جانے والے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد اسے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کی عدالت میں منتقل کیا تھا۔