سوشل میڈیا پول کا جواب موت ملنے پر لڑکی کی خودکشی

16 مئ 2019

ای میل

یہ واقعہ ملائیشین ریاست سراواک میں پیش آیا — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ واقعہ ملائیشین ریاست سراواک میں پیش آیا — شٹر اسٹاک فوٹو

ملائیشیا میں ایک 16 سالہ لڑکی نے انسٹاگرام پر اپنے فالورز سے زندگی یا موت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا پول کرایا اور پھر خودکشی کرلی۔

ملائے میل کی رپورٹ کے مطابق اس لڑکی نے پیر کی سہ پہر ایک پول انسٹاگرام پر پوسٹ کیا جس میں لکھا تھا 'بہت ضروری، مجھے مرنے یا جینے کے انتخاب میں مدد دیں(Really Important, Help Me Choose D/L) '۔

اس لڑکی نے فیس بک پر بھی ایک پوسٹ کی تھی جس میں لکھا تھا کہ وہ تھک چکی ہے اور اپنی زندگی کا خاتمہ چاہتی ہے۔

اور اس پول پر جو ووٹ ڈالے گئے اس میں 69 فیصد ڈی آپشن کے لیے تھے جس کا مطلب موت تھا، اس پول کے 5 گھنٹے بعد اس لڑکی نے ایک عمارت کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔

مقامی حکام اب یہ تعین کرنے میں مصروف ہیں کہ جن لوگوں نے پول میں موت کے لیے ووٹ ڈالا وہ لڑکی کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں یا نہیں۔

ملائیشیا میں نوعمر افراد کو خودکشی میں معاونت فراہم کرنا جرم ہے جس کے ثابت ہونے پر سزائے موت یا 20 سال قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

یہ واقعہ ملائیشین ریاست سراواک میں پیش آیا اور وہاں کے مقامی حکام کا کہنا تھا کہ یہ لڑکی ممکنہ طور پر اپنے سوتیلے باپ کی ایک ویت نامی خاتون سے شادی پر تناﺅ کا شکار تھی جس کے بعد وہ کبھی کبھار ہی گھر آتا تھا۔

دوسری جانب خبررساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ملائیشین پارلیمںٹ کے رکن رام کرپال سنگھ نے انتظامیہ سے ان حالات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جن کے نتیجے میں اس لڑکی نے خودکشی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑکی آج زندہ ہوتی اگر انٹرنیٹ صارفین اس کے انسٹاگرام اکاﺅنٹ میں خودکشی کے خیال کی حوصلہ شکنی کرتے۔

انسٹاگرام ایشیا پیسیفک کے کمیونیکشنز سربراہ چنگ یائی وونگ نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ لوگ انسٹاگرام کو استعمال کرتے ہوئے خود کو محفوظ تصور کریں۔ اس مقصد کے لیے ہم اپنی کوششوں کے ساتھ ہر ایک پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس وقت رپورٹنگ ٹولز استعمال کریں یا ایمرجنسی سروسز سے رجوع کریں جب وہ کسی قسم کے رویے سے وہ کسی کی زندگی کو خطرے میں محسوس کریں۔

انسٹاگرام نے رواں سال فروری میں اس مقصد کے لیے چند فیچرز متعارف کرائے تھے تاکہ نوجوان صارفین کو اس پلیٹ فارم میں زیادہ تحفظ فرام کیا جاسکے۔

اس مقصد کے لیے خود کو نقصان پہنچانے والی تصاویر کو ہٹایا گیا جبکہ ایسی نان گرافک تصاویر کو سینسٹیو بنادیا گیا۔