امریکا میں ’ہواوے‘ پر پابندی، چین کا شدید احتجاج

اپ ڈیٹ 16 مئ 2019

ای میل

امریکی وفد کی بیجنگ آمد سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہے،چین کے وزیر تجارت —فائل فوٹو / اے ایف پی
امریکی وفد کی بیجنگ آمد سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہے،چین کے وزیر تجارت —فائل فوٹو / اے ایف پی

چین نے ٹیلی کام کمپنی 'ہواوے' کی امریکی مارکیٹ میں پابندی پر واشنگٹن کو تجارتی تنازعات میں مزید تناؤ کی دھمکی دے دی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دو عالمی اقتصادی ممالک کے مابین تجارتی سطح پر کشیدگی جاری ہے۔

دوسری جانب چین کے کینیڈا کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بھی تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔

بیجنگ کی جانب سے دو کینیڈین تاجروں کی ’ریاست کے راز چوری‘ کرنے کے الزام میں گرفتاری ظاہر کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘چین، امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات سے قبل شرائط کا قائل نہیں‘

واضح رہے کہ کینیڈا نے امریکا کی درخواست پر 'ہواوے' کمپنی کی ایگزیکٹو کو گرفتار کیا تھا۔

ہواواے سے متعلق حالیہ بیانات کے بعد واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی تنازعات کے حل کے لیے دوطرفہ مذاکرات غیر یقینی کا شکار ہوگئے ہیں۔

چین کے وزیر تجارت نے کہا کہ ’امریکی وفد کی بیجنگ آمد سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہے‘۔

خیال رہے کہ امریکا کے سیکریٹری خزانہ اسٹیون مینیچ نے تجارتی تنازعات کے حل کے لیے جلد از جلد چین کا دورہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا چین تجارتی جنگ، ‘بیجنگ میں مذاکرات کا پہلا دور مثبت رہا‘

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’قومی سلامتی کو درپیش ناقابل قبول خطرات‘ اور ’امریکی عوام کے تحفظ‘ کو بنیاد کر صدارتی حکم کے ذریعے ملک بھر میں ہواوے کی مضوعات کی خرید و فروخت پر پابندی لگادی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے الزام لگایا تھا کہ چین، ہواوے کی مدد سے ملک کی خفیہ معلومات چوری کر سکتا ہے۔

اس ضمن میں امریکی محکمہ تجارت نے ہواوے کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کمپنی فون، ٹیلی کام، ڈیٹابیس اور دیگر الیکڑونک اشیا میں استعمال ہونے والے اہم امریکی آلات سے محروم ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آغاز میں چین کی حکومت نے واضح کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ تجارتی امور پر مذاکرات کا خیر مقدم کرتی ہے، تاہم چین کے مفادات سے متصادم نکات پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔

مزید پڑھیں: تجارتی کشیدگی کے باوجود چین اور امریکا باہمی تعاون بڑھانے کیلئے پُرعزم

چینی حکام نے عندیہ دیا تھا کہ مذاکرات مشترکہ اور یکساں مفادات کے تناظر میں ہونے چاہیے۔

اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ بیجنگ، امریکا کو تجارتی دھمکی دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور نہ ہی مذاکرات سے قبل شرائط کو قبول کرے گا۔