اسٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس 17 سال کی ریکارڈ کمی کا شکار

اپ ڈیٹ 19 مئ 2019

ای میل

حصص مارکیٹ میں کمی ڈالر کی قدر میں اضافے کی ایک وجہ بھی بتائی جارہی ہے — فائل فوٹو/اے ایف  پی
حصص مارکیٹ میں کمی ڈالر کی قدر میں اضافے کی ایک وجہ بھی بتائی جارہی ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے سمیت گزشتہ 7 ہفتوں کے دوران مندی کی وجہ سے انڈیکس میں 14فیصد کی ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 17 سالوں کے دوران پوائنٹس میں 7 ہفتوں کے دوران اتنی کمی کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج (کے ایس ای) 100 انڈیکس میں گزشتہ ہفتے کے دوران ایک ہزار 5 سو 50 (4.5 فیصد) پوائنٹس کمی دیکھنے میں آئی، جو پچھلے 30 ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔

مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی، مشیر خزانہ کی بروکرز سے ملاقات

واضح رہے کہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر انڈیکس 3 سال کی کم ترین سطح 33 ہزار ایک سو 67 پوائنٹس کے بعد ہوا۔

کاروبار کے آغاز سے ہی مارکیٹ مندی کا شکار رہی جس کی سب سے بڑی وجہ سے افواہوں کی صورت میں آنے والی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والی شرائط کی خبریں تھیں۔

جب پاکستان کی کیکڑا-1 سائٹ پر تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت سے متعلق کی جانے والی ڈرلنگ کے نتیجے سے متعلق خبریں سامنے آنے والی تھیں تو مارکیٹ میں 1.2 فیصد تک کا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور سرمایہ کاروں کی اس سے اُمیدیں وابستہ ہوئیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز منفی رجحان

اس کے علاوہ ہفتے کے وسط میں کیکٹر-1 پر ڈرلنگ مکمل ہونے اور حکومت کی جانب سے ایمنسٹی اسکیم کے متعارف کروائے جانے کے بعد مارکیٹ میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی تھی۔

لیکن یہ بہتری قلیل مدتی ثابت ہوئی کیونکہ مارکیٹ میں اپنا پیسہ لگانے سے قبل سرمایہ کار اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی کا انتظار کر رہے ہیں جن کے حوالے سے افواہیں سامنے آرہی ہیں کہ 100 سے 200 بیس پوائنٹس کے ساتھ شرح سود میں اضافہ کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں گزشتہ ہفتے مارکیٹ کو سب سے زیادہ جس نے نقصان پہنچایا وہ ڈالر کی مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی تھی، کیونکہ اس دوران ڈالر کی قدر میں 3.6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔