چین کیلئے جاسوسی کا الزام، سابق سی آئی اے افسر کو 20 سال قید کی سزا

اپ ڈیٹ 19 مئ 2019

ای میل

کیون میلوری پر امریکا کی دفاعی معلومات 25 ہزار ڈالر میں فروخت کرنے کا الزام ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی
کیون میلوری پر امریکا کی دفاعی معلومات 25 ہزار ڈالر میں فروخت کرنے کا الزام ہے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

واشنگٹن: امریکا نے سینٹرل انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق افسر کو چین کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں 20 سال قید کی سزا سنادی۔

سی آئی اے افسر کو امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی میں جاری خطرناک رجحان کے تحت کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی گئی۔

62 سالہ کیون میلوری کو مارچ اور اپریل 2017 میں شنگھائی کے دوروں کے دوران چینی انٹیلی جنس ایجنٹ کو امریکا کی 'دفاعی معلومات' 25 ہزار ڈالر میں فروخت کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔

انہوں نے 5 مئی 2017 کو چینی ایجنٹ کو بھیجے گئے پیغام میں کہا تھا کہ 'آپ کا مقصد معلومات حاصل کرنا اور میرا مقصد ادائیگی حاصل کرنا ہے'۔

مزید پڑھیں: چین کیلئے جاسوسی کے شبے میں 'ہواوے' کے اعلیٰ افسر پولینڈ میں گرفتار

کیون میلوری سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے افسر بننے سے قبل، امریکی فوج اور اس کے بعد اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سیکیورٹی سروس کے اسپیشل ایجنٹ کی خدمات سرانجام دے چکے تھے۔

وہ ان کئی امریکی حکام میں سے ایک ہیں، جنہیں اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی کلیئرنس کے ساتھ گرفتار اور چینی انٹیلی جنس سے پابندیوں کے بغیر ڈیلنگ کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے عہدیدار رون ہانسن کو چین کو اہم معلومات بیچنے کی کوشش کے الزامات میں قصوروار قرار دینے کے بعد مارچ میں 15 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اپریل میں سابق سفارتکار کینڈیس میری کلائیبورن کو تفتیش کاروں سے امریکی دستاویزات کے بدلے چینی انٹیلی جنس ایجنٹس سے موصول رقم سے متعلق جھوٹ بولنے پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔

سب سے اہم کیس میں یکم مئی کو سابق سی آئی اے افسر جیری چن شنگ لی کو چین کے لیے جاسوسی کے الزام میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایپل، ایمازون کے کمپیوٹرز میں چین کی جاسوسی چپ نصب ہونے کا انکشاف

جیری چن شنگ لی کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کا امکان ہے، انہیں 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا، انہیں بیجنگ کو 2010 اور 2012 کے دوران وہ معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے، جو سی آئی اے کے معلوماتی نیٹ ورک کو معیار کم کرنے کے لیے مطلوب تھیں۔

اسسٹنٹ جنرل جان ڈیمرز نے کیون میلوری کیس سے متعلق کہا کہ 'یہ کیس ایک خطرناک رجحان کا حصہ ہے جس میں سابق امریکی انٹیلی جنس افسران کو چین کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے جس کے بعد وہ اپنے ملک اور ساتھیوں کو دھوکا دیتے ہیں'۔


یہ خبر 19 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی