بحرین کی اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران، عراق چھوڑنے کی ہدایت

19 مئ 2019

ای میل

کمرشل فلائٹس خلیج فارس کا استعمال نہ کریں، امریکا — فائل فوٹو: رائٹرز
کمرشل فلائٹس خلیج فارس کا استعمال نہ کریں، امریکا — فائل فوٹو: رائٹرز

خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے بحرین نے اپنے شہریوں کو ’فوری طور پر‘ اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کو چھوڑنے کی ہدایت کردی جبکہ جو افراد اس وقت بحرین میں موجود ہیں انہیں ان ممالک کے سفر نہ کرنے کی ہدایت کرنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں بحرین کی سرکاری نیوز ایجنسی بی این اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ بحرینی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام خطے میں غیریقینی صورتحال، خطرناک پیش رفت اور ممکنہ خطرات کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل واشنگٹن نے ایران کی جانب سے موصول ہونے والی دھمکیوں کے باعث عراق میں موجود سفارتخانے سے غیر ہنگامی عملے کو واپس بلالیا تھا۔

ایکزون کی بھی عملے کو عراق چھوڑنے کی ہدایت

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں کام کرنے والی تیل کمپنی ایکزون موبائل نے اپنے غیر ملکی عملے کے 60 ملازمین کو فوری طور پر عراق چھوڑ کر دبئی جانے کی ہدایت کی تھی۔

عراقی تیل کمپنی ساؤتھ آئل کمپنی کا کہنا ہے کہ ایکزون کی جانب غیرملکی ملازمین کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کے باوجود تیل کی پیداوار پر اثر نہیں پڑے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران اپنے تنازعات مذاکرات سے حل کریں، پاکستان

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایکزون موبائل کا یہ حفاظتی اقدام عارضی ہے، تاہم ہمیں کسی بھی خطرے کا اشارہ نہیں ملا، اس وقت تیل کے کنویں پر صورتحال مستحکم ہے، جو اپنا کام کر رہے ہیں۔

عراقی کمپنی نے بتایا کہ غیر ملکی ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دبئی میں ایکزون کمپنی کے دفتر سے اپنا کام کریں جس میں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔

امریکا کی کمرشل فلائٹس کو خلیج فارس میں پرواز نہ کرنے کی وارننگ

امریکی سفارتکار نے کمرشل فلائٹس کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے خلیج فارس سے پرواز کرنے میں احتیاط کریں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی سفارتکار کا یہ انتباہ امریکا کے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے واضح کیے گئے خطرات کے پیش نظر سامنے آیا ہے جس میں اس نے اس خطے میں فضائی ٹریفک کو درپیش خطرات کی جانب اشارہ کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ لائڈز آف لندن نے خلیج فارس میں بحری جہازوں کو درپیش خطرات کا بھی اشارہ دیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکا - ایران کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے وائٹ ہاؤس نے ایران کے ممکنہ مبینہ خطرے سے بچنے کے لیے اپنی بحری جنگی جہاز خطے میں پہنچادیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ایرانی ’پاسداران انقلاب‘ کو دہشت گرد قرار دے دیا

خیال رہے کہ خلیجی ممالک مشرق اور مغرب کے درمیان فضائی سفر کے لیے اہم ترین ممالک ہیں، جہاں ایک جانب دبئی موجود ہے جہاں دنیا کا سب سے مصرف ترین ایئرپورٹ موجود ہے اور یہاں ایمریٹس کا ہیڈ آفس بھی جبکہ اتحاد ایئرویز اور قطر ایئرویز بھی اس ہوائی اڈے سے آپریٹ کرتے ہیں۔

مذکورہ تمام فضائی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہیں اور اب تک ان کے تمام آپریشنز پر صورتحال کا کوئی اثر نہیں ہوا جبکہ عمان ایئر سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

امریکی حکام کی جانب سے سامنے آنے والے اس انتباہ سے ایک مرتبہ پھر آپریشن پریئنگ مینٹس کا خدشہ ظاہر ہورہا ہے جو امریکی نیوی کی جانب سے ایرانی نیوی کے خلاف اپریل 1988 میں کیا گیا تھا۔

مذکورہ صورتحال پر ایرانی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف کا کہنا تھا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا۔