سوشل میڈیا پر تصاویر میں نازیبا ردو بدل، نوجوان لڑکی نے خودکشی کرلی

اپ ڈیٹ 20 مئ 2019

ای میل

چند افراد نے لڑکی کی تصاویر میں تبدیلی کرکے ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی — فائل فوٹو/شٹر اسٹاک
چند افراد نے لڑکی کی تصاویر میں تبدیلی کرکے ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی — فائل فوٹو/شٹر اسٹاک

ضلع بدین کے علاقے ٹنڈو غلام علی میں انٹر کی طالبہ 18 سالہ لڑکی نے زہر کھا کر خودکشی کرلی۔

اطلاعات کے مطابق چند افراد نے لڑکی کی تصاویر میں نازیبا ردو بدل کرکے اسے ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

لڑکی نے تصاویر کے وائرل ہونے پر زہر کھاکر خودکشی کی جس کے بعد اسے فوری طور پر تشویش ناک حالت میں حیدرآباد کے ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکی۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پول کا جواب موت ملنے پر لڑکی کی خودکشی

سندھی اخبار کے مطابق لڑکی کے بھائی گیان چند اور وجے پرمار نے صحافیوں کو بتایا کہ سوم میگھوار نامی نوجوان نے ان کی بہن کو ایڈٹ کی گئی تصاویر بھیجی تھیں اور کہا تھا کہ اگر اسے ماہانہ 50 ہزار روپے ادا کیے جائیں تو وہ یہ تصاویر ڈیلیٹ کردے گا۔

اس سے قبل لڑکی کی منگنی مہیش میگھوار سے کی گئی تھی، سوم میگھوار نے ,مہیش میگھوار کا موبائل فون نمبر حاصل کرکے اسے بھی وہ نازیبا تصاویر بھیجی جس کی وجہ سے ان کی منگنی ٹوٹی اور پھر مہیش اور سوم دونوں نے اسے بلیک میل کرنا شروع کردیا۔

بھائی کا کہنا تھا کہ مہیش سے منگنی سے قبل اُن کی بہن کی منگنی اشوک میگھوار نامی نوجوان سے طے پائی تھی تاہم سوم میگھوار نے وہاں پہنچ کر اشوک سے ملاقات کی جس کے بعد وہ تقریب کے درمیان سے ہی اٹھ کر چلا گیا تھا۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) بدین کے مطابق لڑکی نے خودکشی سے قبل ایک خط لکھا تھا جس میں اس نے مہیش کمار، سوم میگھوار اور اشوک میگھوار پر ذہنی دباؤ ڈالنے اور بلیک میل کرنے کا الزام لگایا ہے۔

انہوں نے ڈاکٹر لکھمن کی درخواست پر سائبر کرائم قوانین کے تحت ملزمان کے خلاف کیس درج کرنے کے احکامات دیے۔

ٹنڈو غلام علی پولیس کی جانب سے حیدر آباد کے اور ٹنڈو الہ یار میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔