کراچی: کمسن بچی کو اغوا کے بعد قتل کرنے والے کو عمر قید

ای میل

مجرم کو لواحقین کو 5 لاکھ روپے زرتلافی ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا — فائل فوٹو / اے ایف پی
مجرم کو لواحقین کو 5 لاکھ روپے زرتلافی ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا — فائل فوٹو / اے ایف پی

کراچی کی ماڈل عدالت نے سال 2012 میں پانچ سالہ بچی کو تاوان کے لیے اغوا اور بعد ازاں قتل کرنے والے مجرم کو عمر قید کی سزا سنادی۔

وحید احمد پر مُبینہ ٹاؤن پولیس اسٹیشن کی حدود سے مئی 2012 میں ارم عرف رانی کو اغوا اور پھر قتل کرنے کا جرم ثابت ہوا۔

ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ (شرقی) کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حلیم احمد نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ نے یہ ثابت کیا کہ وحید نے بچی کو یکم مئی 2012 کو اغوا اور پھر اسے قتل کیا۔

جج نے مجرم کو بچی کا قتل کرنے پر عمر قید کی سزا سنائی اور لواحقین کو 5 لاکھ روپے زرتلافی ادا کرنے کا حکم دیا جس کی عدم ادائیگی پر اس کی سزا میں چھ ماہ کا اضافہ کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سزائے موت کے ملزم کی سزا 19 سال بعد عمر قید میں تبدیل

جج نے کہا کہ مجرم کو سزائے موت کے بجائے عمر قید دینے کی وجہ یہ تھی کہ جرم ہوتے ہوئے کسی نے دیکھا اور نہ ہی جرم کی اصل وجہ سامنے آئی۔

استغاثہ کے مطابق یکم مئی 2012 کو ارم اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوگئی تھی۔

بعد ازاں مجرم وحید نے بچی کے والد کو فون کیا اور بچی کی رہائی کے لیے ان سے تاوان کا مطالبہ کیا۔

ایک ماہ بعد پولیس نے بچی کے والد کو لاش کی شناخت کے لیے عباسی شہید ہسپتال طلب کیا جو ارم کی ہی تھی۔