نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کیلئے درخواست پر سماعت آج ہوگی

اپ ڈیٹ 21 مئ 2019

ای میل

درخواست میں  کہا گیا کہ بیرون ملک علاج اور کسی ممکنہ این آر او  کے درمیان کوئی تعلق نہیں — فائل فوٹو/ اے ایف پی
درخواست میں کہا گیا کہ بیرون ملک علاج اور کسی ممکنہ این آر او کے درمیان کوئی تعلق نہیں — فائل فوٹو/ اے ایف پی

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں طبی بنیادوں پر کوٹ لکھپت جیل سے ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی حالیہ درخواست پر سماعت آج ( منگل کو )ہوگی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی عدالتی بینچ کرے گا۔

درخواست میں نواز شریف کی 7 سال قید کی سزا کی معطلی اور طبی بنیادوں پر بعد از گرفتاری ضمانت کی استدعا کی گئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی حالت تشویش ناک ہے اور انہیں دل کے علاج کے لیے پرسکون ماحول کی ضرورت ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ڈاکٹروں کے مطابق نواز شریف مختلف بیماریوں کا شکار ہیں جس سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کی جیل واپسی: قومی مقاصد قربانی مانگتے ہیں، مریم نواز

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کی جانب سے طبی بنیادوں پر ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کی درخواست کو مسترد کردیا تھا، جس کے بعد سابق وزیراعظم نے 7 مئی کو کوٹ لکھپت جیل میں حکام کو گرفتاری دے دی تھی۔

تاہم عدالت نے سابق وزیراعظم کے وکیل کو کسی ریلیف کے لیے متعلقہ فورم تک رسائی کی تجویز دی تھی۔

مذکورہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 6 ہفتوں کے لیے سزا معطل کرتے ہوئے نواز شریف کو اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کروانے کی اجازت دی تھی۔

درخواست میں کہا گیا کہ ' ضمانت کے دوران کروائے گئے میڈیکل ٹیسٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ نواز شریف کو لاحق مختلف بیماریاں نہ صرف ان کی زندگی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ان کی وجہ سے درخواست گزار کو پرسکون ماحول کی ضرورت ہے'۔

اس میں کہا گیا کہ نواز شریف کے علاج کے لیے انہی ڈاکٹروں کے پاس لے جانا ناگزیر ہے جنہوں نے پہلے ان کا علاج کیا تھا۔

درخواست میں بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم نے برطانیہ سے امراض قلب کا کامیاب علاج کروایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ:نواز شریف کی ضمانت میں توسیع،بیرون ملک علاج کی درخواست مسترد

درخواست میں نواز شریف کے بیرون ملک علاج اور ممکنہ این آر او معاہدے کے درمیان کسی تعلق کے امکان کو مسترد کیا گیا ہے.

اس میں کہا گیا کہ گزشتہ برس 6 جولائی کو جب احتساب عدالت نے نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھی وہ اس وقت برطانیہ میں تھے اور پاکستان واپس آئے تھے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ضمانت کے دوران نواز شریف نے عدالتی احکامات پر عمل کیا اور مدت ختم ہونے کے بعد گرفتاری دے دی۔

استدعا کی گئی کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ سابق وزیراعظم کی سزا معطل کرکے انہیں ضمانت دیتی ہے تو معزز عدالت کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

گزشتہ برس 24 دسمبر کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ ایک ارب روپے اور ڈھائی کروڑ ڈالر علیحدہ علیحدہ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

تاہم احتساب عدالت نے نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں شک کی بنیاد پر بری کردیا تھا۔