اسلام آباد میں 10 سالہ بچی کا زیادتی کے بعد قتل،اہلخانہ کا شدید احتجاج،2 ملزمان گرفتار

اپ ڈیٹ 21 مئ 2019

ای میل

پولیس نے گمشدگی کی رپورٹ درج کرنے میں تاخیر کی، ورثہ کا الزام — فائل فوٹو: کریٹیو کامنز
پولیس نے گمشدگی کی رپورٹ درج کرنے میں تاخیر کی، ورثہ کا الزام — فائل فوٹو: کریٹیو کامنز

اسلام آباد میں 10 سالہ قبائلی بچی ’فرشتہ‘ کو اغوا کے بعد مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے الزام میں 2 ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔

ڈان نیوز کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ فرشتہ کے مبینہ ریپ اور قتل کے حوالے سے جاری تفتیش کے دوران اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن سے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

گزشتہ روز ملزمان فرشتہ کی لاش قریبی جنگل میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔

مقتول بچی کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی فرشتہ کی گمشدگی کی درخواست تھانہ چک شہزاد میں 15 مئی کو جمع کروائی گئی تھی۔

خاندانی ذرائع نے بتایا کہ 10 سالہ بچی کا تعلق قبائلی ضلع مہمند سے ہے جو چند روز قبل لاپتہ ہوگئی تھی، تاہم پولیس نے اس کی گمشدگی سے متعلق ایف آئی آر درج کرنے میں بھی تاخیر کی۔

مزید پڑھیں: کراچی کے نواحی علاقے میں بچی کا ریپ کے بعد قتل

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ خاندان کی جانب سے بھرپور احتجاج کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی، لیکن اس دوران تھانہ چک شہزاد کی حدود سے بچی کی لاش بھی برآمد ہوگئی۔

پولیس نے اب تک صرف گمشدگی سے متعلق درخواست جمع کی جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فرشتہ کے قتل کے الزام میں 2 مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔

بچی کے ورثا اور علاقہ مکین نے میت سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا۔ فوٹو: ٹوئٹر باسط شیرانی
بچی کے ورثا اور علاقہ مکین نے میت سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا۔ فوٹو: ٹوئٹر باسط شیرانی

دریں اثنا علاقہ مکین اور ورثا نے فرشتہ کی لاش سڑک پر پر رکھ کر احتجاج بھی کیا، بعد ازاں پولیس حکام اور اہلِ خانہ کے درمیان مذاکرات ہوئے، تاہم آخری اطلاعات تک احتجاج جاری تھا۔

واقعے پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) کی سربراہی میں تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری قائم کردی گئی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق اے ڈی سی بلاول آبڑو کو 7 دنوں میں معاملے پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ میں 9 سالہ بچی ریپ کے بعد قتل

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) اسلام آباد نے متعلقہ افسران سے رپورٹ بھی طلب کرلی۔

آئی جی اسلام آباد پولیس نے 2 ٹیمیں تشکیل دے دیں جن میں ایک کی قیادت سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) انوسٹی گیشن جبکہ دوسری ایس پی رورل، ڈی ایس پی شہزاد ٹاون اور ایس ایچ او شہزاد ٹاون پر مشتمل ہے۔

علاوہ ازیں ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن کو معطل کردیا۔

وقار الدین سید کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کو معطل کرنے کا مقصد شفاف انکوائری کرانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ معاملے کی انکوائری ایس پی رورل عمر خان کے سپرد کردی گئی ہے اور انہیں فوری طور پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے دعویٰ کیا کہ بچی کے قاتل کا سراغ لگا لیا ہے، جلد کامیابی مل جائے گی۔

بعد ازاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسے انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیا اور بتایا کہ لاش کا پوسٹ مارٹم ہو گیا ہے، فرانزک اور ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 'پولیس نے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر کے 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، شفاف طریقے سے سائنسی بنیادوں پر تفتیش کریں گے'۔

انہوں نے بتایا کہ معاملے کی تفتیش کے لیے 2 سپرنٹنڈنٹ پولیس کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی گئی ہے۔