سابق فوجی افسر موت کے بعد کرپشن الزامات سے بری

21 مئ 2019

ای میل

احتساب عدالت کی جانب سے 2002 میں  14 سال قید کی سزا اور 75 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیاگیا تھا — فائل فوٹو/ اے ایف پی
احتساب عدالت کی جانب سے 2002 میں 14 سال قید کی سزا اور 75 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیاگیا تھا — فائل فوٹو/ اے ایف پی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب ) کی جانب سے دائر کیے گئے کرپشن ریفرنس میں سابق فوجی افسر کی وفات کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے انہیں الزامات سے بری کردیا۔

کرنل افتخار اعوان ریٹائر آرمی افسر تھے، انہیں لاہور کی احتساب عدالت کی جانب سے سروسز کوآپریٹو کریڈٹ کارپوریشن لمیٹڈ ( ایس سی سی ایل) میں 2002 میں مبینہ طور پر بے قاعدگیوں کی وجہ سے 14 سال قید کی سزا اور 75 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیاگیا تھا۔

مرحوم کے وکیل کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا جس میں عدالت نے مجرم کی موت سے متعلق آگاہ ہونے کے باوجود طویل دلائل سنے کیونکہ ان کے قانونی وارث میرٹ کی بنیاد پر اس کیس کا خاتمہ چاہتے تھے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بعض مقدمات میں مجرموں کو ان کی وفات کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ: سانحہ کوٹ رادھا کشن کے 2 مجرمان کی سزائے موت معطل

افتخار اعوان نے احتساب عدالت کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس نے فیصلہ برقرار رکھا تھا لیکن 14 سال کی سزا کو کم کرکے 5 برس کردیا تھا۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 2009 میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی جہاں معاملہ زیرِ التوا رہا اور 22 اپریل 2015 کو افتخار اعوان انتقال کرگئے تھے۔

افتخار اعوان کے قانونی ورثا نے سپریم کورٹ میں کیس میں فریق بننے، میرٹ پر سماعت اور اس کا فیصلہ دینے کی اپیل دائرکی تھی تاکہ مرحوم کے نام سے اس سزا کا خاتمہ ہوسکے جو ان کے مطابق ایماندار اور اصول پسند تھے۔

عدالت میں ایڈووکیٹ شیخ نے کہا کہ یہ نیب کی جانب سے عدالتی ڈھانچے میں غیر آئینی مداخلت کا کیس تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس ریفرنس میں کسی قانونی ذرائع سے کوئی ایک دستاویز، کوئی قانونی شواہد موجود نہیں تھے اور بدقسمتی سے عدالتوں نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا۔

ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے قوانین کے مطابق کسی بھی شخص کو اس وقت تک جرم قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک اس کے خلاف کسی قانونی ذرائع یا ریکارڈ پر مبنی ثبوت موجود ہو۔

یہ بھی پڑھیں: سزائے موت کے 'نفسیاتی قیدی' کی پھانسی تاحکم ثانی معطل

ان کا کہنا تھاکہ اگر پراسیکیوشن کوئی ایسی دستاویز لے آئے تو وہ اپنی اپیل پر زور نہیں دیں گے۔

قومی احتساب بیورو (نیب ) کے پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانا سے کسٹڈی سے متعلق باقاعدہ دستاویزات یا قابلِ قبول شواہد پیش کرنے کا کہا گیا تھا۔

جہانزیب بھروانا نے مقدمے میں دلائل دیے لیکن الزامات سے متعلق کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔

تاہم سپریم کورٹ نے مرحوم افتخار اعوان کی سزا کو معطل کرتے ہوئے تمام الزامات ختم کردیے، عدالت نے جرمانہ بھی منسوخ کردیا اور اسے غیرقانونی قرار دیا۔


یہ خبر 21 مئی 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی